متعلقہ مضامین

غامدیت سابقہ غامدی کی نظر میں

مغرب کے غلبے کے بعد، مدتوں سے یہی ہوتا آیا ہے، اور عہد جدید کے مسلمان”مصلحین” (ریفارمرز) کی فکری تاریخ کا امتیازی نشان بن چکا ہے: موقف ایک ہی رہتا ہے، لیکن اس کے حق میں دلائل بدلتے رہتے ہیں۔ ایک “دلیل” ردّ ہوتی ہے، تو دوسرے استعماری متجدد اُسی دعوے کو ایک اور “دلیل” پر استوار کرتے ہیں۔ جب وہ بھی ردّ ہو جاتی ہے تو ایک اور “دلیل” تراشی جاتی ہے! اس کی وجہ یہ ہے کہ نتائج پہلے سے طے ہیں، یعنی اسلام کی ایسی تعبیر جو جدید عہد کے مطالبوں کا مثبت جواب دے، اور ایسی “شریعت” جس کی جدیدیت سے کامل ہم آہنگی ہو۔ اور اس کی بنیادی وجہ ان لوگوں کا یہ مخلصانہ خیال ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی فلاح اس میں ہے کہ پوری طرح مغربی فکر و تہذیب کو اختیار کریں۔

اگر اسلام کی “اصلاح” کر کے اُسے مغرب کی طاقتور تہذیب سے سمجھوتے کے لیے تیار نہ کیا گیا، تو خطرہ ہے کہیں اسلام اور مسلمان فنا ہی نہ ہو جائیں۔ اسلام اور مسلمانوں کی بقا کا یہ دردمندانہ مگر بے بصیرت اور عاقبت نااندیش موقف ان کا رہنما ہے۔ سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی سے لے کر جاوید غامدی و غلام احمد پرویز صاحبان تک، سب کو یہی پریشانی لاحق رہی ہے۔ انکارِ حدیث کا دعویٰ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ استعمارکے اثرات تمام مستعمَر مذاہب پر ہوئے ہیں، تمام میں متجدد فرقے پیدا ہوئے، اور تمام میں مغربی نقطۂ نظر سے قطع و برید کی گئی۔ استعمار کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، اس سےنجات فقط ناقدانہ نظر اور مزاحمت ہی سے ممکن ہے، ورنہ اس پیر تسمہ پا سے نجات نہیں ملے گی۔ مرزا رفیع سودا نے کہا تھا:

ملک آئین جب سے تیں لُوٹا

کفر و دِیں گبر و شیخ سے چُھوٹا

نہ جیا تیری چشم کا مارا

نہ تری زلف کا بندھا چُھوٹا

چند روز ہوئے راقم کا ایک مضمون دلیل کی ویب گاہ پر شائع ہوا: “جاوید غامدی کے متجددانہ شطحات“، جو اصلاً ایک استفسار کا جواب تھا۔ ایک صاحب نے جاوید غامدی صاحب کا ایک تحریری اقتباس تبصرے کے لیے بھیجا تھا۔ محترم مستفتی نے یہ اقتباس جاوید غامدی صاحب کی کتاب “میزان” کے سنہ ۲۰۰۸ء کے ایڈیشن سے لیا تھا، اور راقم نے حوالے میں سنہ طباعت لکھنے کا التزام کیا۔ راقم نے اس کا تجزیہ کیا اور کچھ سوالات اُٹھائے۔ اس سے قبل، غامدی صاحب اس استدلال کو خاموشی سے ترک کے، ایک نیا استدلال سامنے لا چکے تھے، اور اس عبارت کو تبدیل کر چکے تھے۔ “خاموشی سے” اس لیے، کہ اس کی خبر خود جاوید غامدی صاحب کا دفاع کرنے والے جانثار محققین کو بھی نہ تھی۔ تاہم، فاضل محققین نے بہر صورت جاوید غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کے دفاع کی ذمہ داری اُٹھائی ہوئی تھی۔ لہذا آؤ دیکھا نہ تاؤ، بغیر تحقیق کیے، جھٹ غامدی صاحب کے اس متروک استدلال کا مستعدی سے دفاع کرنا شروع کر دیا۔ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں۔ اگر غور کیجیے تو یہ صورتِ حال ڈرامائی سنگینی کی عمدہ مثال ہے، جس سے لطف اُٹھانے کے لیے کچھ حسِ ظرافت بھی درکار ہے! اس فرقے کے پیروکار اس چھوٹی سی آزمائش میں بھی کھرے نہ نکلے۔ سچ ہے، : ؏ مہوِّس تا نہ جھونکے آگ میں مِس زر نہیں ہوتا!

فی الحال، راقم اِن دفاعی کوششوں پر کچھ عرض کرنا چاہے گا، اور جاوید غامدی صاحب کی نئی دریافت پر بھی۔ لیکن مضمون کا “عمود” وہی ہے: جاوید غامدی صاحب کا انکارِ حدیث!

نو دریافت شُدہ پایۂ چوبیں

پہلے جاوید غامدی صاحب حدیث کے انکار کو مدلل کرنے کے لیے، احادیث مبارکہ کے ظنی ہونے کو بنیاد بناتے تھے (میزان، طبع سنہ ۲۰۰۸ء)۔ لیکن اب یہ فرما رہے ہیں کہ “لا ریب، حدیث نہ دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات، عادات، اقوال و اعمال “کی تبلیغ و حفاظت کا کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کہ چاہیں تو اِنہیں آگے پہنچائیں، چاہے تو نہ پہنچائیں” (میزان، طبع سنہ ۲۰۱۴ء)۔ یعنی دوسرے الفاظ میں آپ ﷺ پر اعتراض ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے “ملفوظات” کیوں نہ مرتب کیے، ڈائری کیوں نہ لکھی یا لکھوائی، اور بادشاہوں کی طرح درباری وقائع نگار کیوں نہ متعین کیے، اور اپنے تمام ارشاداتِ مقدسہ کو مدون، مرتب، اور مجلد کر کے شائع کرنے کا اہتمام کیوں نہ کیا؟ گویا آپ ﷺ نے برسوں جو دعوت و تبلیغ کا کام کیا، جس کے نتیجے میں آپ ﷺ کی تعلیمات صفحۂ دہر پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئیں، اِن کے نزدیک اُس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ استدلال غلام احمد پرویز اور دوسرے منکرینِ حدیث کے موقف کی بہت ہی ناقص، اور غیر علمی نقل ہے۔ جس فکر کا خمیر ہی استعمار سے اٹھا ہو اُس میں رسولِ ہاشمی ﷺ کا مرتبہ کیسے سلامت رہ سکتا ہے؟ اس فکر کاحال وہی ہے جس کی تصویر مرزا رفیع سودا نے کھینچی تھی، کہ آئینہ: ؏ خمیرِ سنگ سے بنتا ہے تو جوہر نہیں ہوتا!

غلام احمد پرویز اور غامدی صاحب کا استدلال

غامدی صاحب نے تیس برس غور و خوض کیا، تو حدیث کے انکار کی ایک دلیل ملی، یعنی یہ کہ حدیث “یقینی” نہیں ہوتی (میزان، سنہ ۲۰۰۸ء، صفحہ: ۱۵)۔ اس دلیل کا لغو ہونا جب اُن پر واضح ہو گیا تو نئے ایڈیشن میں تبدیلی کر دی، اور نئی “دلیل” دی ہے، کہ وہ نہ دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ نبی ﷺ نے:

“ان کی تبلیغ و حفاظت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کہ چاہیں تو اِنہیں آگے پہنچائیں، چاہے تو نہ پہنچائیں” (جاوید غامدی، میزان، سنہ ۲۰۱۴ء، صفحہ ۱۵)۔

لاریب، پاکستان میں منکرینِ حدیث کے “اُستاذامام” غلام احمد پرویز رہے ہیں۔ قریب ہے کہ اُن کی مسند جاوید غامدی صاحب سنبھالیں، لیکن پرویز کا تاریخی تقدم بہرحال قائم رہے گا۔ حدیث کا انکار کرنے کے لیے، پرویز کے مکتبِ فکر، یعنی طلوع اسلام کا استدلال بھی بعینہ یہی تھا۔ چنانچہ اُن کے نزدیک بھی احادیث کا انکار کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ “حتمی و یقینی” نہیں ہوتیں (مقامِ حدیث، صفحہ: ۱۸)، اور ان کے بارے میں “یقینی” طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی ﷺ کے ارشادات ہیں (مقامِ حدیث، صفحہ:۱۴)، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر احادیث دین کا جزو ہوتیں تو نبی ﷺ ان کی کتابت و حفاظت کا اہتمام فرماتے۔ کم از کم سنہ ۲۰۰۹ء تک، غامدی صاحب کا استدلال پرویز کی وجہِ اول پر قائم رہا۔ لیکن غلام احمد پرویز نے انکارِ حدیث کے حق میں جو دوسرا استدلال کیا تھا، غامدی صاحب کو اس کی اطلاع شاید بعد میں ہوئی، یا اس کی “قوت” کا اندازہ دیر سے ہوا۔ تاہم، جب غلام احمد پرویز کی بات پر شرح صدر ہوگیا، تو ادارۂ طلوع اسلام کے دوسرے استدلال کو تقریباً لفظ بہ لفظ اختیار کر لیا، کہ احادیث اس لیے دین نہیں ہیں کیونکہ نبی ﷺ نے “ان کی تبلیغ و حفاظت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا، بلکہ سننے اور دیکھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کہ چاہیں تو اِنہیں آگے پہنچائیں، چاہے تو نہ پہنچائیں۔ “(میزان، سنہ ۲۰۱۴ء، ص: ۱۵)۔ ادارۂ طلوعِ اسلام سے غامدی صاحب کا “استفادہ” پرویزیوں کی درج ذیل عبارت سے واضح ہے:

“اگر یہ [احادیث] جزوِ دین تھیں، تو جس طرح آپ [ﷺ] نے قرآنِ کریم کے ایک ایک لفظ کو لکھوایا، زبانی یاد کرایا، لوگوں سے سنا، دُہرایا، ۔ ۔ ۔ ۔ احادیث کے بارے میں بھی یہی انتظام فرمانا چاہیے تھا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن احادیث کے متعلق کوئی انتظام نہیں فرمایا۔ ۔ ۔ ۔ آپ خیال فرمائیے، کہ اگر احادیث بھی دین کا جزو ہوتیں تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حفاظت کا کچھ بھی انتظام نہ فرماتے؟” (مقامِ حدیث، لاہور، ادارہ طلوع اسلام، سنہ ۲۰۰۱ء، صفحہ:۵، نیز دیکھیے صفحہ:۲۱۵)۔

غلام احمد پرویز ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

“رہی وحی کی دوسری قسم (یعنی روایات) سو اُسے نہ کہیں لکھوایا نہ کسی کو یاد کرایا، نہ اس کا کوئی مجموعہ مرتب کیا، نہ اس کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا۔ ۔ ۔ ۔ دین نام رکھا جاتا ہے قرآن (وحی متلو) اور سنت (وحی غیر متلو) کے مجموعے کا، اور دین کے جزوِ اول کا تو اس قدر انتظام و اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن جزو ثانی کو اس طرح لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے! کیا اس سے رسول اللہ ﷺ کے منصب رسالت پر حرف نہیں آتا؟ (سلیم کے نام خطوط، سنہ ۱۹۵۳ء، حصہ اول، صفحہ:۴۴)۔

اس سے نصف صدی قبل، سنہ ۱۹۰۶ء میں، مصر میں انکارِ حدیث کے اکابر میں سے محمد توفیق صدقی کا استدلال بھی یہی تھا کہ نبی ﷺ نے احادیث میں سے کچھ بھی قلم بند نہ کروایا، الا یہ کہ آپ ﷺ کے عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا۔ ۔ ۔ ۔ اگر قرآن مجید کے علاوہ کچھ اور(یعنی حدیث کا ذخیرہ) دین میں ضروری ہوتا تو نبی ﷺ لازماً اس کو تحریر میں لانے کا حکم دیتے، اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کا ذمہ لیتا، اور یوں نہ ہوتا کہ کسی کو اپنی فہم کے مطابق، جیسے اور جب چاہے، آگے روایت کرنے کی اجازت ہوتی (دیکھیے: محمد توفیق صدقی، “الاسلام ھو القرآن وحدہ”، مجلہ المنار، ۱۹۰۶ء، جلد ۹، صفحہ:۵۱۵)۔

غامدی صاحب کا عقیدہ غلام احمد پرویز اور دوسرے منکرین حدیث کے نقطۂ نظر سےاس قدر مماثل ہے کہ جاوید غامدی صاحب کے الفاظ بھی غلام احمد پرویز کی تحریر سے مستعار لگتے ہیں۔ المورد دراصل ادارۂ طلوع اسلام ہی کا تسلسل ہے۔ تعجب ہے کہ کچھ سادہ لوح لوگ اب بھی تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں حالانکہ ان کے افکار کی لفظی و معنوی مماثلت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ “اصل میں دونوں ایک ہیں”!

احادیث طیبہ کی حفاظت

بہرحال، دینِ اسلام کی حفاظت و تاریخیت پر جاویدغامدی اور غلام احمد پرویز صاحبان جیسے منکرینِ حدیث کے اس اعتراض کا مختصر جواب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے، اپنے ارشادات، افعال، معاہدے اور مکاتیب، غرضیکہ حیاتِ طیبہ کے تمام پہلووں کی تبلیغ اس طرح سے کی کہ یہ مواد ہم تک بحفاظت پہنچ گیا ہے، اور صحت کے اعتبار سے دنیا کی دینی روایات کے ذخیرے میں مستند ترین ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے بہت سی چیزیں لکھوائیں، بہت سی زبانی لوگوں کو پہنچائیں، اور نبوت کے تئیس برس اسی کی تبلیغ میں گزارے، جو اس “تاریخیت” پر منتج ہوا۔ آپ ﷺ سے لے کر عہدِ حاضر تک، حفظ و انتقال کا یہ عمل کیسے ہوا، اس کی تفصیل بھی اسلاف کے کام میں محفوظ ہے۔ لیکن خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے قرآن و حدیث اس دُنیا کو دے دیا، چھپایا نہیں، کمی بیشی نہیں کی، اور ہانکے پکارے، خلوت و جلوت میں، میلوں اور مجالس میں ہر جگہ اس کا صور پھونکا۔ یہاں تک کہ اب کسی کے مٹائے مٹ نہیں سکتا۔

غامدی صاحب تو یہ بھی فراموش کر بیٹھے کہ جس شے کو وہ “سنت” کہتے ہیں وہ بھی اس کی زد میں آرہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ “سنت” کا ایک انوکھا، اور طبع زاد تصور ہے جس کی کوئی بنیاد قرآن مجید اور حدیث شریف میں نہیں ہے، اور اسلامی فکری تاریخ میں اس کی ہوا بھی اِن سے پہلے کسی کونہ لگی تھی۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کے علاوہ تمام دین اسی “سنت”میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس کو بھی نبی ﷺ نے مدوّن کر کے نہیں دیا تھا، نہ ان کی “تبلیغ و حفاظت کا اہتمام” فرمایا۔ بلکہ “سنت” کی یہ فہرست ایسی گم ہوئی کہ چودہ سو برس تک اس کی خبر کسی کو نہ تھی، اور اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ خود جاوید غامدی صاحب کو اس اُمت پر ترس کھا کر، یہ زحمت کرنی پڑی، کہ پہلے اسے دریافت کریں، پھر اس کے اصول تصنیف فرمائیں، اور پھر ان اصولوں کی روشنی میں پہلی مرتبہ اس کی ایک فہرست مرتب کریں! آخری خبریں موصول ہونے تک اس فہرست میں کمی بیشی ہو رہی تھی، اور ترتیب و تہذیب کا کام جاری تھا۔ اس کی “حفاظت” کا یہ حال ہے کہ برسوں سے غامدی صاحب اس “یقینی و قطعی” مآخذ کو وقتاً فوقتاً “ایڈٹ” کرتے رہے ہیں، اور ان “اجماعی اور متفق علیہ” امور کی فہرست میں چیزیں ڈالتے اور نکالتے رہتے ہیں۔ کوئی متجدد یہ مطالبہ بھی کر سکتا ہے کہ اگر “سنت” دین تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ اسے لکھوا کر متعددسرکاری نقول تیار کراتے، اور امت کے حوالے کرتے، اس کی مصدقہ نقول عرب کے ہر علاقے میں بھجواتے، یا پتھروں پر کندہ کراتے، وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ایسے مطالبے کی نامعقولیت میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔

اللہ کے نبی سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک قول اور فعل، نطق و سکوت، عمل و سکون، ہر چیز دین کا ماخذ ہے، اور مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ۔ اسی کی تعلیم قرآن مجید نے دی، اور آپ ﷺ نے بھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ وہ آپ ﷺ کے ارشادات کے سماع، افعال کے مشاہدے، آپ ﷺ کے نعل بالنعل اتباع، اور آپ ﷺ کی تعلیمات کی حفاظت و تبلیغ میں بے حد حریص تھے۔ منکرین حدیث کی غلطی یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خود پر قیاس کر رہے ہیں، کہ شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ارشادات، اعمال، اور تصویب کو بس اُتنی اہمیت ہی دیتے تھے جتنی منکرین حدیث دیتے ہیں، کہ ایک کان سے سُنا اور دوسرے سے نکال دیا، چاہا تو یاد رکھا، چاہا تو بھلا دیا، چاہا تو آگے روایت کیا، چاہے تو بتائے بغیر اس دنیا سے چلے گئے۔ اور دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ان کے خیال میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو قلب و قرطاس پر محفوظ کرنے، اور تمثیلِ امر کے لیے جواہتمام صحابہ کرتے تھے، نبی ﷺ کو نعوذباللہ اس کی خبر نہ تھی۔

آپ ﷺ نے بیس برس سے زیادہ دین کا پہم ابلاغ فرمایا، اور یہی اس دینی روایت کی حفاظت، بقا، اور استقرار کو یقینی بنانے کے لیے کافی تھا۔ قرآن مجید اور آپ ﷺکے ارشادات و اعمال کی حفاظت و تبلیغ ہی قرن اول و ثانی کا اہم ترین فریضہ رہا، جسے انہوں نے زبانی و تحریری ذرائع سے اگلی نسلوں کو منتقل کیا۔ اس اہتمام کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ ذخیرہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔ آپ ﷺ کا اعجاز ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں، صرف آپ ﷺ کی ذات مقدسہ ہی کو ماضی کے ایک روشن دور کی شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ اس نعمت سے صَرفِ نظر منکرینِ حدیث کی بڑی بد نصیبی ہے۔

اب ہم غامدی صاحب کے موقف پر کیے گئے اعتراضات کے جواب میں، اس فرقے کی جانب سے آنے والے دفاع کا نکتہ وار جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا دعویٰ

راقم کا پہلا سوال یہ تھا کہ جاوید غامدی صاحب کے نزدیک دین کے لیے قطعی ذرائع پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ اس کی کیا دلیل ہے؟ غامدی صاحب کے دفاع میں سینہ سپر ایک صاحب فرماتے ہیں: “یہ دعویٰ شرعی دلائل کا محتاج نہیں”۔ یہ اہم پوزیشن ہے۔ یعنی وہ فرما رہے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیثِ مقدسہ سے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی، بلکہ اس رہنمائی کی ضرورت بھی نہیں ہے! اس کی بجائے ان کا اعتقاد ہے کہ یہ اصول “بالکل بدیہی” ہے۔ اور مکرر دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تو “معلوم ہے کہ ظنی ذرائع میں دین اصلاً نہیں بلکہ فرعاً ہوتا ہے”!! یعنی جو دعوی بلا دلیل تھا، اور جس کی دلیل طلب کی گئی تھی، اسی دعوے کو دلیل کے طور پر پیش کر دیا!! منطقی مغالطہ اسی کو کہتے ہیں۔ عرض ہے کہ یہ کیسے “معلوم” ہوا؟ اس کی کوئی دلیل قرآن و حدیث میں بھی ہے یا نہیں؟ اِن کی خاموشی بتا رہی ہے، کہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اصل اور فرع

یہ لوگ اس پر بھی بلانہایت اصرار کر رہے ہیں کہ حدیث “فرع” ہے اور قرآن و “سنت” اصل ہیں۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے گودوانے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے سامنے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلام قبیلہ بنی اسد کی ایک خاتون کو معلوم ہوا، جو اُم یعقوب کے نام سے معروف تھیں۔ وہ تشریف لائیں، اور کہا کہ “مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے؟” حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “آخر کیوں نہ میں ان پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے، اور جو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ملعون ہے؟” خاتون نے کہا کہ “قرآن مجید تو میں نے بھی اول تا آخر پڑھا ہے، لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں میں نے تو اس میں کہیں یہ بات نہیں دیکھی”۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اگر آپ نے بغور پڑھا ہوتا، تو ضرور مل جاتی۔ کیا آپ نے یہ آیت نہیں پڑھی: وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا، کہ ”رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کچھ دیں لے لیا کرو اور جس سے تمہیں روک دیں، رک جایا کرو”؟ خاتون نے کہا کہ “پڑھی ہے”۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “پھر جان لو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے روکا ہے!” (یعنی آپ ﷺ نے اس آیت کے تحت ان کاموں سے منع فرمایا ہے) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، رقم:۴۸۸۶)۔ نبیﷺ نے جو بات بھی فرمائی، اس کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے، اور وہ یہ آیت ہے اور اس طرح کی دوسری آیات ہیں جن میں آپ ﷺ کو مطاع ٹھہرایا گیا ہے اور مومنوں کو اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ اب یہ منکرینِ حدیث قرآن مجید کی اِن آیاتِ شریفہ، اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بصیرت کو نظر انداز کر کے کون سی”اصل” ڈھونڈتے پھر رہے ہیں؟

ان حضرات کو اعتراف ہے، کہ قرآن مجید نے کہیں یہ شرط نہیں لگائی، کہ دین کا مکلف بنانے کے لیے، اس کے احکام قطعی و یقینی ذرائع ہی سے پہنچنے چاہییں۔ لہذا اس قدر تو واضح ہے کہ جاوید غامدی صاحب کا یہ دعویٰ غیر قرآنی ہے۔ چونکہ انہوں نے اس کے حق میں کوئی حدیث بھی پیش نہیں کی (کیونکہ حدیث ان کے نزدیک “اصل” ہو ہی نہیں سکتی، ہمیشہ فرع ہوتی ہے!)، لہذا غامدی صاحب کے دعوے کے حق میں کوئی حدیث پاک بھی نہیں۔ چونکہ یہ دعویٰ دین کے مبادی میں سے ایک ہے، یا جاوید غامدی صاحب کے مبادیٔ دین میں سب سے اہم ہے، بلکہ اصلُ الاصول ہے، تو نتیجہ نکلا کہ غامدی صاحب کی تعبیرِ دین کے مبادی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت نہیں ہوتے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد فکر فراہی کے ناقدین کا مقدمہ ثابت ہو جاتا ہے۔ غامدی صاحب انکارِ حدیث کے حق میں بنیادی دلیل یہی دے رہے تھے، کہ حدیث یقینی نہیں ہے، اس لیے دین کے دائرے سے باہر ہے۔ اُن کا یہ دعویٰ ایک اور دعوے پر قائم تھا: کہ دین کے ذرائع قطعی ہونے چاہییں۔ اس دعوے کی بھی انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی تھی۔ ہم نے دلیل کی درخواست کی، تو جواب دیا گیا ہے، کہ کوئی شرعی دلیل سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ کسی شرعی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، لہذا غامدی صاحب کا پہلا دعویٰ بے دلیل ہونے کی بنا پر کلیتاً ردّ کر دینے کے لائق ہے۔ اور جب یہ دعویٰ غلط ہے، تو اس پر کھڑے ہوئے دیگر “مبادی” اور اُن سے ماخوذ پورے دین کی متجددانہ تعبیر بھی بے بنیاد ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبار آحاد کو قبول کرنے کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کی “اصل” قرآن مجید میں موجود ہو، ورنہ احادیثِ طیبہ کو ردّ کر دیا جائے گا۔ لیکن دوسری جانب، دین کے “اصلُ الاصول” کے لیے قرآن مجید میں کوئی اصل موجود ہونے کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں، بلکہ اسے عقل کے زور پر، یا جاوید غامدی اور غلام احمد پرویز کے “عقلی” اِدّعا پر ہی قبول کرنا پڑے گا۔ یا للعجب! اور وہ “عقلی” دلائل ہیں کہاں؟ کیا کیجیے، کہ ان کے استدلال کو غور سے دیکھنے کے بعد بھی ہمیں یہ “عقلی دلائل” کہیں نظر نہیں آئے۔ سو غامدی صاحب کے “اصل الاصول” کے حق میں کوئی دلیل نہ قرآن مجید میں ہے، نہ حدیث مبارکہ میں، اور نہ عقل میں! صحافیانہ تحریروں سے، اور سطحی دعووں سے طلبہ کو علم کا کوئی سچا موتی ہاتھ نہیں آتا۔ شاعر نے سچ کہا ہے: ؏ جو آبِ چاہ کا قطرہ ہے وہ گوہر نہیں ہوتا!

اب رہا یہ سوال کہ کیا واقعی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس سوال پر کوئی رہنمائی موجود نہیں ہے کہ دین کس قسم کی خبر سے ثابت ہوتا ہے اور کس نوعیت کی خبر سے ثابت نہیں ہوتا؟ کیاکتاب و سنت واقعی اس بات پر خاموش ہیں کہ ظنی طریق سے پہنچنے والے احکام واجب العمل ہوتے ہیں یا نہیں؟ عرض ہے کہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ قرآن مجید احادیثِ مبارکہ سے اس معاملے میں کافی وشافی رہنمائی ملتی ہے، کہ ظنی امور بھی واجب العمل ہوتے ہیں۔ اصولِ فقہ کی اکثر کتب میں یہ بحث موجود ہے، اور اس کے دلائل بھی۔ اُن کی مراجعت کرنی چاہیے۔ اور کچھ نہیں تو اس پر حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا “الرسالہ” ہی دیکھ لیں، ورنہ دیگر مآخذ بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، احناف میں سے شمس الائمہ امام سرخسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والآثار عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و عن الصحابۃ رضی اللہ عنھم فی العمل بخبر الواحد اکثر من ان تحصی و اشہر من ان تخفی، یعنی خبر واحد پر عمل کے معاملے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس قدر روایات آئی ہیں کہ شمار نہیں کی جاسکتیں اور اتنی مشہور ہیں کہ مخفی نہیں رہ سکتیں (اصول، جلد ۱، ص:۳۲۸)۔

میں کوُچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

شرعی و عقلی دلائل ڈھونڈ لانے میں ناکامی کے بعد، اب فقط ماضی کے “مولوی” رہ جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بالآخر یہ متجددین اُنہی کی چوکھٹ پر پہنچے ہیں، اور چار و ناچار “فقہاء” کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، اور استعماری تجدد کی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملا دی ہے۔ تلاش بسیار کے بعد، نویں صدی کے ایک اندلسی فقیہ کا حوالہ ملا ہے۔ اب اس فکر کا مبلغ دلائل بس یہ ہے! راقم نے سابقہ مضمون میں نہ اسلاف سے استشہاد کیا نہ روایت سے، کہ منکرینِ حدیث کو یہ سنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جب مجبوری پڑی، تو اُنہیں “فقہاء” پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے! جب منکرین حدیث کے سامنے ائمہ اربعہ اور اسلاف رحمہم اللہ کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں، تو اہل تجدد بالعموم یہ کہہ کر نکل جاتے ہیں کہ آپ ہمارے سامنے مولویوں کے فتوے دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں؟ وہ کیا سے اللہ کی جانب سے مبعوث ہوئے ہیں؟ ہم بھی لوگ ہیں وہ بھی لوگ تھے (ھم رجال و نحن رجال)! اور گفتگو ختم ہو جاتی ہے۔ فقہائے کرام کی اہل تجد د کے ہاں کیا اوقات ہے، یہ بات منکرینِ حدیث سے زیادہ کون جانتا ہے؟بہرحال، اس استدلال پر تین معروضات پیش ہیں۔

دین اور فقہ میں خطِ امتیاز

اول: دین تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے، آسمان سے فرشتے لے کر آئے ہیں، وحی جلی و خفی پر مبنی ہے۔ لہذا رہتی دنیا تک باقی رہنے والاہے، اور تمام عالمین کے لیے ہدایت ہے، لیکن ان “مجتہدین” کے نزدیک اس کے مبادی و اصول، اس کے احکام کا مقام و مرتبہ، اور تکلیف شرعی کے ثبوت کا مدار فقہائے کرام کے فتووں پر ہے؟ جس بے چارے فقیہ کا حوالہ یہ حضرات دے رہے ہیں، اُس فقیہ سے کہیں زیادہ دُور رس اور ہمہ گیر اجتہادات تو فیس بک پر غامدی مکتب کے لوگ صبح و شام کرتے پھرتے ہیں! ان کے سامنے نویں صدی کا ایک اُندلسی فقیہ کیا بیچتا ہے؟ پھر ان کا تو مسلسل وِرد ہی یہ رہتا ہے کہ فقہ سرے سے دین ہی نہیں ہوتی۔ پھر وہ دین کا اصل الاصول کیسے بن گئی؟ اگر اس نو دریافت شدہ دین کی بنیاد ایک فقیہ کے فتوے پر قائم ہے، تو اس “اجتہادِ عظیم” کی ضرورت ہی کیا تھی؟ “دین” اور “فقہ” کی جس تفریق پر غامدی صاحب کے کام کی بنیاد ہے، اِن حضرات نے تو اُس بنیاد ہی کو منہدم کر دیا ہے! بلکہ دین کی بنیاد ہی فقہاء، بلکہ ایک فقیہ کے فتوے پر استوار ہو رہی ہے۔ چونکہ یہ بات جاوید غامدی صاحب نہیں کہہ رہے، بلکہ ان کے بعض پیروکار کہہ رہے ہیں، لہذا یہ نکتہ غامدی صاحب کے متبعین کی اپنی “دریافت” لگتا ہے، جس کی کوئی ذمہ داری جاوید غامدی صاحب پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اور یہی مشکل اس فرقے سے مکالمے میں پیش آتی ہے، کہ بعض اہل قلم اپنے تئیں غامدی صاحب کی فکر کے ایک “مخصوص” فہم کی تبلیغ و دفاع میں مصروف ہیں، اور جو چاہیں کہہ دیتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے جب اہل علم کی جانب سے گرفت ہوتی ہے، تو غامدی صاحب اپنے متبعین سے برأت کا اعلان کر کے صاف نکل جاتے ہیں۔ لہذا ان سے کیسے مکالمہ کیا جائے؟ اگر غامدی صاحب خود یہ صراحت فرما دیتے، کہ “میرے اصل ُالاصول کی کوئی دلیل قرآن مجید و احادیث مبارکہ میں نہیں پائی جاتی، نہ میں ایسی کسی دلیل کو ضروری ہی سمجھتا ہوں، نہ عقل کی بنا پر کوئی متعین دلیل میرے پاس ہے، بلکہ قرونِ وسطیٰ کے ایک فقیہ کی رائے کی بنیاد پر میں ایک نیا دین دریافت کرنے نکل کھڑا ہوا ہوں!” تو اس پر مفید گفتگو البتہ ہو سکتی تھی۔

ابو اسحٰق شاطبی کا موقف

دوسری بات یہ ہے کہ ابو اسحٰق شاطبی کا موقف بھی وہ نہیں ہے جو جاوید غامدی صاحب کا ہے۔ شاطبی پر تفصیلی کلام کا موقع نہیں ہے، لہذا مختصراً چند معروضات پیش ہیں۔ شاطبی کی “الموافقات” کی جو عبارت یہ حضرات لیے لیے پھرتے ہیں وہ غور طلب ہے۔ جب شاطبی کہتے ہیں کہ اَدِلّۂ شرعیہ کتاب و سنت میں محصور ہیں (فاما الضرب الاول، فالکتاب و السنۃ، ان الادلۃ الشرعیۃ فی اصلھا محصورۃ فی الضرب الاول)، تو دیکھنا چاہیے کہ وہ “سنت” سے کیا مراد لیتے ہیں؟ سنت کی تعریف کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں:

“سنت” کا اطلاق ا ُس پر کیا جاتا ہے جو خاص نبی ﷺ سے منقول ہو، قرآن مجید میں منصوص نہ ہو، بلکہ آپ ﷺ کی طرف سے آئی ہو، خواہ اس میں کتابُ اللہ کا بیان ہو یا نہ ہو” (شاطبی، الموافقات، تہذیب: محمد الاسکندرانی، عدنان درویش، بیروت: دار الکتاب العربی، سنہ ۲۰۰۶ء، جزء رابع، صفحہ:۶۷۲) ۔

پھر فرماتے ہیں:

اور “سنت کا اطلاق بدعت کے مقابل بھی ہوتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ فلاں شخص سنت پر (عامل) ہے، تو اس کی مراد یہ ہے کہ اس کا عمل نبی ﷺ کے عمل کے مطابق ہے، خواہ یہ کتاب اللہ میں ہو یا نہ ہو۔

تیسرے، لفظ “سنت” کا اطلاق عملِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی ہوتا ہے، جو کتاب و سنت میں پایاجائے یا نہ پایا جائے، جس کا سبب یہ ہے کہ یہ سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک ثابت تھی، لیکن ہم تک نقل نہیں ہوئی، یا یہ ان کا اور ان کے خلفاء کا مجمع علیہ اجتہاد تھا۔ کیونکہ خلفاء کا اجماع بھی اجماع ہی ہوتا ہے! ۔ ۔ ۔ ۔ اور لفظ سنت کے اس اطلاق پر نبی ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: میری سنت، اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کی سنت تم پر لازم ہے”۔

ان اطلاقات کو اگر جمع کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ لفظ “سنت” کا اطلاق چار پہلووں پر ہوتا ہے: نبی ﷺ کے قول، فعل، تقریر، پر، خواہ یہ وحی پر مبنی ہو یا اجتہاد پر، کیونکہ نبی ﷺ کا اجتہاد ہمیشہ صحیح ہوتا ہے۔ یہ تین اطلاقات ہیں۔ لفظ”سنت “کا چوتھا اطلاق اُس پر بھی ہوتا ہے جو صحابہ اور خلفاء سے منقول ہو، خواہ وہ قول، فعل، اور تقریر میں منقسم ہو، لیکن اسے ایک ہی شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ما جاء عن الصحابہؓ میں وہ تفصیل نہیں پائی جاتی جو ما جاء عن النبی ﷺ میں ہے (صفحات: ۶۷۲ تا ۶۷۳)۔

پھر فرماتے ہیں:

کتاب اللہ قطعی ہے جب کہ سنت ظنی ہے۔ یعنی سنت کی قطعیت فی الجملہ ہے، فی التفصیل نہیں ہے، بخلاف کتاب اللہ کے، جس کی قطعیت اجمال میں بھی ہے اور تفصیل میں بھی۔ اور جو قطعی ہو وہ ظنی پر مقدم ہوتا ہے، جس سے لازم آیا کہ کتاب اللہ سنت پر مقدم ہے (۶۷۳)۔

دیکھ لیجیے کہ ادلّہ شرعیہ سے شاطبی کی کیا مراد ہے؟ ان کے نزدیک ادلہ شرعیہ قرآن مجید اور سنت میں محصور ہیں، سنت ظنی ہے، اور سنت سے مراد احادیث مبارکہ ہیں۔ شاطبی احادیث مبارکہ مقدسہ کو “سنت” میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی آپ ﷺ کے قول، فعل، اور تصویب کی روایت کو۔ بلکہ ان کے نزدیک سنت نام ہی آپ ﷺ کے قول، فعل، اور تصویب کا ہے۔ نیز سنت میں تمام احادیث شامل ہیں، خواہ وہ قرآن مجید کی تبیین پر مبنی ہوں یا نہ ہوں۔ نیز، چونکہ قرآن مجید قطعی ہے، اور سنت ظنی ہوتی ہے، لہذا قرآن مجید سنت پر مقدم ہے۔ آگے چل کر ہم عرض کریں گے کہ شاطبی کے نزدیک سنت قرآن مجید کے مطلق کی تقیید اور عموم کی تخصیص وغیرہ بھی کرتی ہے! یہ سب باتیں جاوید غامدی صاحب کے تصورِ دین کے عین متضاد ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ شاطبی کو غامدی صاحب کی تائید میں پیش کیا جا رہا ہے!

“سنت” کے لفظ سے التباس

جب غامدی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن و “سنت” کے سوا کوئی چیز دین نہیں ہے، تو وہ احادیث کو دین سے خارج کر دیتے ہیں، کیونکہ اُن کے طبع زاد تصورِ “سنت” میں احادیث شامل ہی نہیں ہیں۔ “سنت” کے طبع زاد تصور میں جومعنوی تحریف فکر فراہی سے وابستہ منکرین حدیث نے کی ہے، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے تصورِ سنت سے لفظی و ظاہری مماثلت کی بنا پر، فقہاء کی عبارات کا حوالہ د یتے ہوئے، یہ تاثر دینا کہ پہلے علماء میں بھی منکرین حدیث ہو گزرے ہیں، نہایت غلط علمی رویہ ہے جس سے قاری کو سخت دھوکہ ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات لگتا ہے کہ خود غامدی صاحب کے متبعین نے بھی دھوکہ کھایا ہے۔ اس معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ شاطبی کو سخت سیاسی و تقدیری مشکلات درپیش تھیں۔ وہ ہسپانیہ میں بڑھتے ہوئے مسیحی غلبے اور مسلمانوں کے زوال کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، جب مسلمان پسپا ہوتے ہوتے جنوب کے اک چھوٹے سے صوبے میں مقید ہو کر رہ گئے تھے۔ بڑی پیمانے پر مسلمانوں کی جلا وطنی ہورہی تھی، عدالتیں زندہ جلانے کا حکم دے رہی تھیں، اور بالجبر مسلمانوں کو مرتد بنایا جا رہا تھا۔ اِن حالات میں غالب سیاسی قوت کی فکر غیر شعوری طور پر اثر کرتی ہے، الّا یہ کہ انسان غیر معمولی ناقدانہ نظر رکھتا ہو اور ان اثرات کے خلاف شعوری مزاحمت کرے۔ ممکن نہیں ہے کہ شاطبی پراٹسٹنٹ فرقے کی پیش رَو فکر سے واقف نہ رہے ہوں، بالخصوص انسان پرستی سے، اور جاہلیت کے احیاء کی اس تحریک سے جسے مورخین بارہویں صدی کا نشأۃ الثانیہ کہتے ہیں۔ یہ اثرات شاطبی پر بھی ہیں۔ سو شاطبی پر بہت تنقید ہے، اور انہوں نے اصول سازی کے کام میں ہاتھ ڈالا، جس کا حق ادا نہ کر سکے، بلکہ غیر ارادی طور پر ایسے قواعد وضع کیے جن سے بعد کے مبتدعہ کو فائدہ پہنچا۔ لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ واضح کیا جائے، کہ وہ غامدی صاحب کی طرح منکرِ حدیث نہیں ہیں۔ نہ وہ شادی شدہ زانی و زانیہ کی سزائے رجم کے منکر ہیں، نہ جہاد لاعلائے کلمۃ الحق کے منکر ہیں، نہ جزیے کے، نہ مرتد کی سزائے قتل کے نہ نزولِ مسیح بن مریم علیہما السلام کے۔ جب کہ غامدی صاحب ان ضروریاتِ دین کے منکر ہیں۔ غالباً اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ شاطبی کے نزدیک احادیث مقدسہ ہر حال میں قرآن مجید کی جانب راجع ہوتی ہیں، اور وہ اس امر کو ثابت کرنے کے لیے بہت عرق ریزی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور اپنے تئیں اس کو ثابت بھی کر دیتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں ضروریاتِ دین میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے، نہ صحیح احادیث کو ردّ کرتے ہیں، جب کہ بعدِ استعمار متجددین اور منکرین حدیث جب اسی مقدمے کو آگے بڑھاتے ہیں تو کثیر تعداد میں احادیثِ صحیحہ اور دین کی متعدد ضروریات کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں؟

خروج عن السنہ

شاطبی نے الموافقات میں منہجِ فہمِ دین کے جو اصول پیش کیے ہیں، لگتا ہے کہ شاطبی کو اُن اصولوں کے ممکنہ مضر اثرات کا شعور تھا، اور انہوں نے اس خدشے کا ذکر بھی ہے کہ اگر ان اصولوں پر احتیاط سے عمل نہ کیا گیا، تو لوگ گمراہی میں پڑ سکتے ہیں۔ چنانچہ شاطبی خود قرآن مجید کے خلاف یا قرآن مجید میں “اصل” نہ ہونے کی وجہ سے، کسی صحیح حدیث کو ردّ نہیں کرتے، بلکہ لکھتے ہیں کہ خروج عن السنہ کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ اپنی رائے پر اصرار کی وجہ سے سنت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ حالانکہ سنت جیسے تبیین کرتی ہے، ویسے ہی “مجمل کی وضاحت، مطلق کی تقیید، اور عموم کی تخصیص” بھی کرتی ہے، اور اس کے نتیجے میں قرآن مجید کے الفاظ کے ظاہری و لغوی پہلو سے آگے نکل جاتی ہے، تا کہ (لوگوں کو) معلوم ہوکہ ان قرآنی الفاظ سے اصل مراد وہ ہے جو سنت میں بیان ہوئی ہے، اب اگر سنت کو ردّ کیا گیا، اورمجرد خواہش کی بنا پر قرآن مجید کے ظاہر کی پیروی کی، تو ایسا شخص فکری گمراہی میں مبتلا ہے، کتاب اللہ سے جاہل ہے، اور ان لوگوں کی طرح ہے جو ٹکریں مارتے پھرتے ہیں، مگر راہ نہیں ملتی (۶۸۱ تا ۶۸۲)۔ شاطبی آگے چل کر اس روایت کا ذکر کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ایک شخص مسہری پر بیٹھا ہو گا اور اسے میر ی بات سنائی جائے گی تو کہے گا ہمارے تمہارے درمیان قرآن مجید ہے، ہم جس شے کو قرآن مجید میں حلال پاتے ہیں اسے حلال سمجھتے ہیں اور جسے قرآن مجید میں حرام پاتے ہیں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ خبردار! (تم لوگ ایسے نہ کرنا کیونکہ) جس شے کو رسول حرام قرار دے، وہ (حرمت میں) اسی جیسی ہے جسے اللہ حرام قرار دے”۔ اس روایت پر شاطبی لکھتے ہیں:

“اس حدیث کا اطلاق ہم پر نہیں ہوتا، کیونکہ یہ حدیث ان لوگوں کے بارے میں ہے جو نبی ﷺ کی سنت کو، اپنی رائے پر مبنی فہم ِقرآن مجید پر اعتماد کر کے ردّ کر دیتے ہیں۔ ہم نے اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ [اقتصار علی القرآن کی] یہ رائے تو ان لوگوں کی ہے جو بہترین راستے سے باہر نکل گئے ہیں (خارجین عن الطریقۃ المثلیٰ)۔ اور آپ ﷺ کا ارشاد کہ “جس شے کو رسول اللہ نے حرام قرار دیا وہ (حرمت میں) اسی کی طرح ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا”، وجہِ متقدم کے پہلو سے صحیح ہے۔ ” (۷۰۵)۔

یہ وہی خدشات ہیں، جو استعماری منکرین حدیث نے سچ کر دکھائے ہیں۔ شاطبی کے نزدیک قرآن مجید کی الل ٹپ تعبیر اور ارادی فہم کی بنا پر احادیث کو ردّ کرنا درست نہیں، بلکہ شاطبی واضح کرتے ہیں کہ اس معاملے میں قرآن مجید کے فہم کو فقط عربی استعمالات کی بنا پر نہیں، بلکہ ایسے طریقے سے حاصل کرنا چاہیے جو کلامِ عرب کے مطابق بھی ہو، اس میں تکلف سے کام نہ لیا گیا ہو، سلف صالح اور علمائے راسخین سے موافقت رکھتا ہو (۷۰۴)۔ نیز شاطبی کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع، بلکہ خلفائے راشدین کا اجماع بھی، حجت ہے۔ یہی وہ دینی مواقف ہیں، جن کی وجہ سے، شاطبی کی ہاں کہیں کہیں اصول میں بظاہر اس کا امکان پیدا ہوتا نظر آتا ہے، لیکن مذکورہ روایتی مواقف پر قائم رہنے کے سبب، وہ بڑی دینی گمراہی اور مہلک فتنوں سے بچ جاتے ہیں، احادیثِ صحیحہ کا اور ضروریاتِ دین کا انکار نہیں کرتے، جیسے جاوید غامدی صاحب کرتے ہیں۔

بہت زیادہ سادگی سے بیان کیا جائے تو بعض مقیدات کے ساتھ یوں کہا جائے گا کہ شاطبی پہلے قرآن مجید کو اصل الاصول قرار دیتے ہیں، اور پھر بہت سی احادیث ِ مبارکہ کو ایک ایک کر کے واضح کرتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی فرع ہیں، گویا احادیثِ طیبہ حق ہیں، دین ہیں، کیونکہ قرآن مجید جیسی قطعی اصل سے متفرع ہیں، اور اس منہج کے اطلاق میں صحیح احادیث کا یا ضروریاتِ دین کا انکار نہیں کرتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ متونِ مقدسہ کی تعبیر میں اسلام کی عظیم الشان علمی و تفسیری روایت کی بالعموم خلاف ورزی نہیں کرتے (۱)۔ اس کے برخلاف، جاوید غامدی صاحب اور دیگر منکرین حدیث پہلے قرآن مجید کی “حاکمیت” کو قائم کرتے ہیں، اور پھر احادیث کو چُن چُن کر قرآن مجید کے نہیں، بلکہ اپنی “تعبیر” کے خلاف بتاتے ہیں، جس سے احادیث مبارکہ کے انکار و تاویل کی گنجائش نکل آتی ہے، اور کتنی ہی احادیثِ صحیحہ کا بے دریغ انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔ نیز قرآن مجید کی تعبیر اپنے طبع زاد اصولوں کی روشنی میں کرتے ہیں، جن کی مدد سےہمیشہ ایسے نتائج نکلتے ہیں جو “حُسنِ اتفاق” سے مغربی فکر کے لیے قابلِ قبول ہوتے ہیں، اور ان کی روشنی میں احادیث مبارکہ کا اور ضروریاتِ دین کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں! یہ دونوں مناہج ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ بیان کی حاجت نہیں۔

ظن واجب العمل ہوتا ہے

تیسری بات: یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا تمام فقہا یہی سمجھتے ہیں کہ دین بہر صورت قطعی ذرائع سے پہنچنا چاہیے؟ غامدی صاحب کے مدافعین علمی و تحقیقی کام کے جن معیارات کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کا بھی اندازہ ہونا چاہیے۔ یعنی ایک فقیہ کی بات پر سارے دین کو گھما رہے ہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ شاطبی کا حوالہ دے کر، پھروہی موقف “ہمارے جلیل القدرفقہاء” کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں۔ ایک فقیہ کے موقف کا حوالہ دے کر تمام فقہا کو اس میں گھیر لینا درست نہیں ہے۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی ایک عظیم اکثریت ظنی خبر کو واجب العمل سمجھتی ہے۔ مذاہبِ اربعہ کا یہ موقف مشہور ہے۔ مثلا ظنی خبر کے واجب العمل ہونے کے بارے میں صدر الشریعہ فرماتے ہیں: لا نسلم انہ لا عمل الا عن علم قطعی، یعنی ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ قطعی علم کے بغیر عمل واجب نہیں ہوتا (شرح التلویح علی التوضیح، بیروت: المکتبہ العصریہ: ۲۰۰۵ء، جلد ۲، ص:۱۰)۔

لہذا شاطبی کی عبارتوں سے غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا دفاع، اس فرقے کے وقار میں اضافے کی بجائے خِفت کا باعث البتہ ہو سکتا ہے۔

دوسرا دعویٰ

غامدی صاحب نے دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ دین فقط “قرآن و ‘سنت’ میں محصور ہے”۔ اس سے بھی بظاہر یہی غرض سمجھ میں آتی ہے کہ احادیثِ مبارکہ کی حجیت کا انکار کیا جائے۔ ہم نے سوال کیا تھا کہ دین کو قرآن مجیداور “سنت” میں کس نے محصور کیا ہے؟ کیوں کیا ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟ غامدی صاحب کے فرقے سے جواب یہ آیا ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہ قرآن و حدیث میں ہے، نہ عقل میں۔ فقط ایک فقیہ کا قول ہے جس پر یہ لوگ کھڑے ہیں۔ اوپر ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ استدلال بھی غلط ہے۔ دوسرے، شاطبی کا یہ مطلب نہیں ہے جو یہ حضرات لے رہے ہیں، اور تیسرے، فقہائے کرام کا مجموعی موقف بھی منکرینِ حدیث کے خلاف ہے۔ غامدی صاحب نے دین کو قرآن و “سنت” میں محصور کیا ہے جو شاطبی کے قول سے بظاہر مماثل لیکن حقیقت میں مختلف ہے۔ غامدی صاحب “سنت” کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید وہ نبی ﷺ کی اسی سنتِ طیبہ کا ذکر کر رہے ہیں، جو مسلمانوں کے ہاں معروف و مقدس مأخذ ہے۔ لیکن، “سنت” سے غامدی صاحب کی مراد کچھ اور شے ہے، کم از کم اس سے مراد حدیث نہیں ہے۔ لہذا یہاں پر اس اصطلاح کو دیکھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہونا چاہیے کہ غامدی صاحب حدیث کو بھی دین سمجھتے ہیں۔ وہ تو ابتدا ہی میں کہہ دیتے ہیں کہ “دین لاریب انہی دو صورتوں [یعنی قرآن و “سنت” ]میں محصور ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز نہ دین ہے، نہ اسے دین کہا جا سکتا ہے ” (میزان، سنہ ۲۰۱۴ء صفحہ:۱۵)۔ چونکہ غامدی صاحب کے نزدیک حدیث دین نہیں ہے، لہذا یہ اصول میں انکارِ حدیث کا ارتکاب ہے، جس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ان کے مدافعین ہچکچا رہے ہیں۔

تیسرا دعویٰ

غامدی صاحب نے تیسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ حدیث کا دائرہ “یہی” ہے کہ وہ ” قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اس پر عمل کے لیے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ کا بیان ” ہے۔ ہم نے سوال اُٹھایا تھا کہ اس دعوے کی کیا دلیل ہے؟ یہ دائرہ کس نے لگایا ہے اور کیوں لگایا ہے؟ غامدی صاحب نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ان کے مدافعین البتہ فرماتے ہیں کہ “جلیل القدر فقہاء” (یعنی “ایک فقیہ”) کے نزدیک ضروری ہے کہ ظنی کو قطعی مآخذ پر پیش کیا جائے۔ لیکن ایک تو شاطبی “فقہاء” نہیں بلکہ ایک فقیہ کا نام ہے۔ دوسرے ان کا مطلب بھی واضح کیا گیا کہ یہ لوگ درست نہیں سمجھے، شاطبی نہ جاوید غامدی صاحب کی طرح اصول میں منکرِ حدیث ہیں، نہ غامدی صاحب کی طرح عملاً صحیح احادیث کا انکار کرتے ہیں، نہ غامدی صاحب کی طرح ضروریاتِ دین کے منکر ہیں۔ تیسرے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقولہ صحیح بخاری کی روایت کے بعد یہ مسئلہ بھی نہ رہا جس میں آپ ﷺ کے تمام اوامر و نواہی کی “اصل” قرآن مجید کی قطعی نص سے بلسان صحابی بیان ہو گئی ہے۔ چوتھے، سرخسی و صدر الشریعہ رحمہما اللہ بھی تو فقہاء ہی ہیں، جن کی آراء کی تائید امت کے اہل علم کی اکثریت کرتی ہے؟ پانچویں، جس روایت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر حدیث کو قرآن مجید پر پیش کرنا چاہیے (ما اتاکم عنی فاعرضوہ علیٰ کتاب اللہ)، اس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ موضوع ہے، اور بقول ائمۂ جرح و تعدیل، زنادقہ و خوارج نے گھڑی تھی۔ یہ حال ہے اس دفاع کے ضعف کا! اور اصل بات یہ ہے کہ یہ سب اعذار بھی اُن کے بعض متبعین دفاع کی غرض سے تراش رہے ہیں، خود جاوید غامدی صاحب نے اپنے دعوے کی کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ سوال تو یہ تھا کہ اگر غامدی صاحب نے اس کی کوئی دلیل بیان کی ہے تو ہماری رہنمائی کی جائے۔ تاحال اس فرقے کو کوئی جواب نہیں سُوجھا۔ علمی معاملات میں بے دلیل دعووں کی ریزہ کاری سے علمی مقصد حاصل نہیں ہوتا: ؏ کہ آبِ آئینہ سے لب کسو کا تر نہیں ہوتا!

“تبیین” کی تعریف یا تحریف؟

واضح ہے کہ اس دعوے کے ذریعے حدیث کے انکار کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔ اور “تبیین” کے معانی میں تحریف کر کے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تحریف اس لیےکہ قرآن مجید کی رُو سے نبی ﷺ کا منصب ہے کہ نازل ہونے والے “ذکر” کی “تبیین” فرمائیں (لتبیّن للناس)۔ نیز قرآن مجید کی رُو سے تبیین میں نیا حکم دینا بھی شامل ہے۔ لیکن غامدی صاحب نے “تبیین” کی جو طبع زاد تعریف کی ہے، اس کی رُو سے “تبیین” میں نیا حکم شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ فرقِ عظیم ہے، محض اصطلاح کا فرق نہیں، مصداق کا فرق ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں اُن کے لیے بعض ضروریاتِ دین کا انکار ممکن ہوا ہے، جو باتفاقِ علماء، کفر تک لے جاتا ہے۔ (حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے “اکفار الملحدین” میں تفصیل سے بتایا ہے کہ ضروریات دین کا انکار کفر ہے، اور ضروریاتِ دین میں تاویل بھی، جس کی بڑی مثال مرزا غلام احمد قادیانی ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کی تاویل کرنے کے سبب کافر ٹھہرا)۔ تحریف اس لیے کہ “تبیین” کی اصطلاح تو قرآن مجید سے اخذ کی ہے، لیکن معنی بدل دیے ہیں، اور سامع و قاری کو یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ اُن کی بات نصوصِ قرآنیہ سے مؤید ہے۔ پھر آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ حدیث فقط “تفہیم و تبیین” اور “اسوۂ حسنہ” کے دائرے کے اندر ہوتی ہے۔ اس طرح احادیثِ مقدسہ میں کسی نئے حکم کی موجودگی کی اصول میں نفی کر رہے ہیں۔ یہ انکارِ حدیث ہے۔ لیکن سادہ لوح قارئین کو خبر تک نہیں ہوتی کہ قرآن مجید کے ایک لفظ کے سُوئے استعمال کا ثمرہ، خارزارِ اِنکارِ حدیث ہے۔

چوتھا دعویٰ

غامدی صاحب کا چوتھا دعویٰ یہ تھا کہ اگر کسی کو حدیث کی صحت پر “اطمینان” ہو جائے، تو پھر اس کے لیے اسے ماننا لازم ہے بشرطیکہ حدیث غامدی صاحب کے لگائے ہوئے دائرے کے اندر ہو۔ اس پر ہم نے سوال کیا تھا کہ یہ دائرہ دوسروں پر حجت کیسے ہو گیا جب کہ اس دائرے کو لگانے کی کی کوئی دلیل انہوں نے نہیں دی؟ یعنی انہیں یہاں اصلاً یہ کہنا چاہیے تھا کہ اگر کسی کو حدیث کی صحت پر اطمینان حاصل ہو جائے، اور میرے لگائے ہوئے دائرے پر بھی اطمینان ہو جائے، تو پھر اس پر اس حدیث کو ماننا لازم ہو جائے گا۔ یہ نہیں کہا بلکہ خود ساختہ رائے کو ایک قطعی دینی اصول بنا کر پیش کیا ہے۔ دوسرا سوال ہم نے یہ اٹھایا تھا کہ کسی بھی حدیث کی صحت پر اطمینان، اور اس بات پر بھی اطمینان کہ یہ غامدی صاحب کے لگائے ہوئے دائرے کے اندر ہی ہے، یہ طے کرنے کا اختیار کس کو دیا جا رہا ہے؟ اس پر ہم نے جو معارضہ کیا تھا، اس کا بھی کوئی جواب مدافعین کی جانب سے نہیں آیا۔ ہم اپنی اس عبارت کو ایک مرتبہ پھر نقل کر رہے ہیں:

غور طلب بات یہ ہے کہ اس بے بنیاد دعوے پر عملاً کیا نتائج مترتب ہوئے ہیں؟ تو معلوم ہے کہ عملاً یہ نتیجہ ہُوا ہے، کہ مصنف نے سادگی سے، بلا دلیل ایک اصول بیان کر دیا ہے، لہذا ان کے فرقے کے متبعین (دینی علوم میں رسوخ کے بغیر) اس پر دل و جان سے عمل کر رہے ہیں، یعنی اپنے “اطمینان” کے مطابق کسی حدیث کو قبول کرتے ہیں، کسی کو ردّ کرتے ہیں، بلکہ زیادہ تر ردّ ہی کرتے نظر آ رہے ہیں! کیا اس بے دلیل اصول سازی کا یہی منشا تھا؟ اگر نہیں تھا تو اس مفسدے، اور اس کی اصلاح کی کچھ ذمہ داری فاضل اصول ساز پر بھی تو ہو گی؟ مطلوبہ علوم میں دسترس کے بغیر محض ذاتی “بے اطمینانی” کی بنیاد پر احادیثِ مبارکہ کو ردّ کرنے کی یہ عام اجازت مسلمانوں کے دین کے لیے کس قدر فساد انگیز ہے؟ چنانچہ یہ دعویٰ بھی ایک مہمل بات لگ رہی ہے۔ اور جاوید غامدی کے متبعین اس کا جو مطلب لے رہے ہیں، اس سے ہمارے سوال کی اہمیت دوچند، اور مصنف کی خاموشی بامعنی ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ سوال کہ یہ اختیار کس کو دیا جا رہا ہے؟ اور اگر صرف مجتہدین کو دیا گیا تھا، تو ان کے ارد گرد جو دادِ تحقیق دی جا رہی ہے، اس کے قبیح نتائج پر ان کا موقف کیا ہے؟

پانچواں دعویٰ

جاوید غامدی صاحب نے پانچواں دعویٰ یہ کیا تھا، کہ اگر کسی کو حدیث کی صحت پر اطمینان ہو جائے اور وہ حدیث جاوید غامدی صاحب کے لگائے ہوئے “دائرے” کے اندر بھی ہو، تو پھر اس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس پر ہم نے یہ اعتراض کیا تھا:

یہ دعویٰ بھی مہمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان فقط دین پر، اور بقول ان کے “خالص دین” پر، عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے، “غیر دین” پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ “تبیین و تشریح” اور “اسوہ حسنہ” دین ہیں یا نہیں؟

اگر وہ فرمائیں کہ یہ دین ہیں، تو انہیں قطعی ذرائع سے پہنچنا چاہیے تھا، جیسا کہ وہ اس اقتباس کے شروع میں سمجھا چکے ہیں۔ لیکن یہ “تبیین و تشریح” اور “اسوہ حسنہ” جن روایات (اخبار آحاد) سے پہنچی ہیں، وہ قطعی نہیں ہیں، اور اس کا اعلان بھی اس اقتباس میں کر چکے ہیں۔ تو پھر ان کا دعویٰ غلط ہے، کیونکہ ان کے اصول کی رُو سے ظنی شے دین نہیں بن سکتی۔ بلکہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ دو سطر پہلے دین کے ذرائع پر قطعیت کی جو شرط بلا دلیل لگائی تھی، خود ہی اس کا الغا کر دیا، اور جو دین چند سطروں قبل “قرآن و سنت” میں محصور تھا، اب اِن میں محصور نہ رہا!

اور اگر وہ فرمائیں کہ “تبیین و تشریح” اور “اسوہ حسنہ” سرے سے دین ہی نہیں ہیں، تو پھر ان پر عمل کرنا بھی کسی مسلمان کے لیے ضروری نہیں ہو گا، لیکن اس کے باوجود وہ ان پر عمل کرنے کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کو “خالص دین” کی بجائے “غیر دینی احکام” پر عمل کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ جو چیز دین نہیں ہے اسے دین قرار دے رہے ہیں، جو افتراعلی اللہ کی تعریف میں آتا ہے، اور بالاتفاق بہت بڑی گمراہی ہے۔

یعنی دونوں صورتوں میں یہ بات ان کے اپنے دعووں کے خلاف ہے، اور شدید تضاد کو جنم دے رہی ہے۔ اس تضاد کو وہ کیسے حل کرتے ہیں، کس تحریر میں حل کرتے ہیں، اور ان کے دلائل کیا ہیں؟

غامدی صاحب کے ایک معتقد فرماتے ہیں کہ “تبیین و تشریح یقیناً دین ہی ہے”۔ اس کا جواب بھی سادہ ہے: یہ آپ کی رائے ہو سکتی ہے، غامدی صاحب کی یہ رائے نہیں ہے۔ جاوید غامدی صاحب قرآن و “سنت” میں دین کو محصور سمجھتے ہیں، اور اس کے علاوہ ہر چیز کے بارے میں لکھتے ہیں: “نہ وہ دین ہے نہ اُسے دین کہا جا سکتا ہے” (میزان، سنہ ۲۰۱۴ء، صفحہ: ۱۵)۔ جب غامدی صاحب کے انکارِ حدیث پر اہل علم نے متنبہ کیا تو سنہ ۲۰۰۹ء میں غامدی صاحب نے ایک مختصر عرصے کے لیے احادیث کو بھی “دین” قرار دیا، اوراس عبارت سے آج تک ان کے ناواقفِ حال متبعین کام چلا رہےہیں۔ اس عبارت سے انکارِ حدیث کا الزام حتمی طریق پر تو رفع نہیں ہوتا تھا، اور دیگر تحریروں میں موجود صریح انکارِ حدیث اور انکارِ ضروریاتِ دین بھی باقی رہتا تھا، لیکن حدیث کو دین تسلیم کرنا ایک مثبت قدم تھا، اگر وہ اس پر قائم رہتے، اور واپس انکارِ حدیث کے قعر میں نہ جا پڑتے۔ افسوس، بعد کی طباعتوں میں، اُنہوں نے انکارِ حدیث کے مبتدع جملے کو برقرار رکھا، اور آج تک برقرار ہے۔ لیکن غامدی صاحب کے موقف کے خلاف، اُن کے مدافعین فرما رہے ہیں کہ “حدیث دین ہے”، اور اسے دین کہا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ غامدی صاحب کے معذرت خواہانہ مدافعین کے بیانات کی کوئی ذمہ داری جاوید غامدی صاحب پر نہیں ہے، اور نہ غامدی صاحب کا موقف اُن کے مدافعین کی مرضی سے متعین ہی کیا جائے گا، بلکہ غامدی صاحب کی اپنی عبارتوں سے اخذ کیا جائے گا۔ چونکہ غامدی صاحب قرآن مجید اور “سنت” کے علاوہ ہر چیز کے بارے میں کہتے ہیں کہ “نہ وہ دین ہے نہ اسے دین کہا جا سکتا ہے”، جس کے نتیجے میں حدیث بھی دین نہیں رہتی، لہذا یہ واضح ہے کہ وہ احادیث مبارکہ کے دین ہونے کے منکر ہیں، اوریہ انکارِ حدیث ہے۔ اور ان منکرینِ حدیث سے مکالمہ اسی نکتے پر مرکوز رہنا چاہیے۔ رہے ان کے متبعین، تو اس فرقے کا ہر متبع اپنی جگہ “مجتہدِ مطلق” ہے، ایک مستقل “مذہبِ فقہ” کا بانی ہے، اور اس کے اپنے “اصولِ فقہ” ہیں، اور فروعات کا تو شمار ہی نہیں ہے۔ چوتھے دعوے کے تحت یہ بھی عرض کیا ہے کہ یہ مجتہدینِ عصر روزمرہ کی تحقیق میں کیسے بے محابہ احادیثِ صحیحہ کو ردّ کرتے رہتے ہیں۔ اِن “مذاہبِ فقہ” سے تعرض کرنے سے ہمیں سرِ دست دلچسپی نہیں ہے۔

خلاصہ

گزشتہ مضمون میں دلائل کی بنا پر جو موقف اختیار کیا گیا تھا، وہ بدستور محکم ہے، اور یاد دہانی کے لیے ایک مرتبہ پھر پیش ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ:

۱۔ جاوید غامدی صاحب کا انکارِ حدیث علمی و دینی اعتبار سے بالکل بے بنیاد اور بے دلیل ہے۔ یہ تقریر محض دعووں پر مشتمل ہے، کوئی دلیل نہیں دی۔ نیز ان کا یہ اقتباس کہیں باہم تضاد کا شکار ہے، اور کہیں بے معنی و مہمل ہے، اور جس قدر حصہ متبادر ہے وہ دینی اعتبار سے سخت مضر ہے۔

۲۔ جاوید غامدی صاحب کا یہ بیان دین میں نبی ﷺ کے مقام اور مرتبے، اور آپ ﷺ کے ارشادات ِ طیبہ کی حیثیت کو از سرِ نو متعین کرنے، اور ان کی تشکیل نو کرنے کی ایک کوشش ہے، جو اُنہیں استعماری منکرینِ حدیث کے سلسلے سے منسلک کرتی ہے۔

۳۔ “حدیث و سنت” کے بارے میں جاوید غامدی صاحب کے یہ بلند آہنگ دعوے متجددانہ شطحات سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ شطحات اس لیے، کہ کوئی دلیل نہیں دی، محض تحکم کی بنا پر مہمل دعوے کیے ہیں جو داخلی تضاد کا شکار ہیں، اور ان کے بعض ناگزیر نتائجِ قبیحہ سے صرفِ نظر کیا ہے۔ متجددانہ اس لیے، کہ اس اقتباس کے الفاظ، جملوں، ترتیب، اورفحوائے کلام سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ اُسی استعماری متجددانہ فکر کی جانب پیش قدمی ہو رہی ہے جس کا قصہ ہم برّصغیر میں گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے سن رہے ہیں۔

غامدی صاحب کا اسلوب

جب خادم حسین رضوی صاحب نے دشنام کو اپنی گفتگو کا زیور بنایا، تو اس پر ہر طرف سے شدید اعتراض ہوئے، لیکن ان کے متبعین کی جانب سے اس پر جو دفاع پیش کیا گیا وہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ تھا۔ دفاع میں کہا گیا کہ یہ دشنام طرازی جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو قرآن مجید و احادیث مقدسہ سے بھی موکّد ہے! غامدی صاحب کے پیروکاروں نے بھی غامدی صاحب کے مبتذل اسلوب کا دفاع پیش کیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک “خرافات”، ” علم و نظر کا افلاس”، اور “سفید جھوٹ” سب اخلاقِ عالیہ کے دائرے ہی میں ہیں! انہوں نے یہ بھی غور نہ کیا کہ جو لوگ غامدی صاحب کو منکرِ حدیث سمجھتے ہیں، ان کے پیش نظر کچھ دلائل و قرائن ہیں۔ ان کی رائے کو “غلط” کہا جا سکتا ہے، “جھوٹ” نہیں۔ علمی اختلاف کرنے والوں کو “سفید جھوٹ” کا مرتکب کہنے کا مطلب ہے کہ یہ اپنے دل میں تو جانتے ہیں کہ غامدی صاحب منکرِ حدیث نہیں، لیکن جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں کہ وہ منکرِ حدیث ہیں۔ یہ فتورِ نیت کا الزام ہے، اور ظاہر ہے کہ بہت مبتذل ہے۔ لیکن ان حضرات کو اس میں کوئی قباحت تاحال نظر نہیں آئی، اور اس کا دفاع کرنا ضروری سمجھا۔ غامدی صاحب کے متبعین کے اس رویے کی غلطی سمجھنا آسان ہے، تقریبِ فہم کے لیے مثال عرض ہے۔ غامدی صاحب جواب میں فرماتے ہیں کہ “میں منکرِ حدیث نہیں ہوں”، جس دعوے کو ان کے ناقدین درست نہیں سمجھتے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ غامدی صاحب کا بے دلیل اصرار ہے، اور علمی اعتبار سے غلط ہے، سو ہم دلائل سے اس کی غلطی واضح کرتے ہیں، لیکن ہم اسے “سفید جھوٹ” نہیں کہتے۔ لیکن اگر غامدی صاحب کے متبعین کے دفاع کے نتیجے میں لوگ غامدی صاحب کو “سفید جھوٹ” کا مرتکب گردانیں، تو اس پریہ حضرات کیا فتویٰ دیں گے؟ کیا اس وقت اخلاقی معیارات بدل جائیں گے؟ لگتا ہے کہ اگر ناقدین نے مزید اصرار کیا تو یہ لوگ غامدی صاحب کی اس بداخلاقی کا جواز قرآن مجید کے “نصوص” سے بھی ثابت کر دکھائیں گے! اور یوں خادم حسین رضوی صاحب کے متبعین سے بہر صورت پیچھے نہیں رہیں گے! بہرحال، دلائل دے دیے ہیں، قارئین فیصلہ فرمائیں گے کہ غامدی صاحب کے ہاں کس نوعیت کا ابتذال پایا جاتا ہے۔

غامدی صاحب کے دفاع پر مُصر ایک صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے غامدی صاحب کی تحریر و تقریر میں “خرافات” اور “سفید جھوٹ” جیسے فتاویٰ دیکھے، تو اُن کے دل میں غامدی صاحب کی عزت و وقار میں اور بھی اضافہ ہو گیا! غامدی صاحب کے عزت و وقار میں اضافے پر ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اللہم زد فزد!چنانچہ جاوید غامدی صاحب کی ایک اور تحریر پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں، تاکہ ایسے حضرات کی نظر میں جاوید غامدی صاحب کے عزت و وقار میں مزید اضافہ ہو۔ جاوید غامدی صاحب نے اپنے مبتذل اسلوب پر اصرار فرماتے ہوئے، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے بارے میں لکھا:

اسلام پر جو حوادث اس زمانے میں گزرے ہیں، ان میں سے ایک بڑا حادثہ یہ بھی ہےکہ بعض لوگ جو دینی علوم سے ناواقفِ محض اور ہمارے قدیم فنون کی امہات کتب میں سے دو لفظ بھی پڑھ سکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، محض اپنی سخن پردازی کے بل بوتے پر دین کی شرح و تعبیر فرماتے، اور اس کے امہات مسائل پر کلام کی جسارت کرتے ہیں۔

اس طرح کے برخود غلط لوگ یوں تو لیڈروں اوردانشوروں کی ہر مجلس میں مل جاتے ہیں، لیکن ان میں ڈکٹر اسرار احمد صاحب کا مقام غالباً سب سے اونچا ہے۔ موصوف کے مبلغ علم کی حدود خود ان پر دوسروں سے زیادہ واضح ہیں۔ چنانچہ اپنی جہالت پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ خود کو “اُمّی” کہتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے مریدوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کرتے ہیں (جاوید احمد غامدی، “غلبۂ دین کی جدوجہد”، ماہنامہ اشراق، اکتوبر سنہ ۱۹۸۵ء، ص: ۷ تا ۸)۔

امید ہے یہ حضرات، خادم حسین رضوی صاحب کے معتقدین کی طرح، جو خادم حسین رضوی صاحب کی ہر دشنام طرازی کو “نصوص” سے موکد کرنے میں دیر نہیں لگاتے، اس پر بھی تبصرہ فرمائیں گے، کہ یہ اسلوبِ کلام “شائستہ” ہے یا “مبتذل”؟ واضح رہے کہ خادم حسین رضوی صاحب جس موقف پر کھڑے تھے، اورجس مطالبے کے لیے مزاحمت کرتے رہے، وہ حق تھا، ہمیں اس سے کامل اتفاق ہے۔ لیکن یہاں فقط اسلوب پر بات ہو رہی ہے۔ یعی موقف درست ہونے کے باوجود دشنام طرازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ غامدی صاحب کا تو موقف بھی غلط ہے، لیکن دیکھیے کہ نیتوں پر کیسے فتوے جاری کر رہے ہیں؟ بدتمیزی کے کیسے نئے معیارات قائم کر رہے ہیں؟ اخلاقی اعتبار سے اس وفورِ غضب کا کیا مرتبہ ہے؟ ابتذال کیا ہوتا ہے؟ ا اور اگر اس اقتباس سے، غامدی صاحب کے لیے سینہ سپر متبعین کی نظر میں، غامدی صاحب کے وقار میں مزید اضافہ ہو جائے، تو قارئین کو ضرور اطلاع کریں، تاکہ اخلاق کے نئے معیارات کی دریافت سے عامۃ المسلمین محروم نہ رہیں۔

یہی معاملہ جاوید غامدی صاحب کےاساتذہ و متبعین کا ہے، جو غامدی صاحب کے مبتذل اسلوب کو با معنی سیاق و سباق فراہم کرتے ہیں، اور اس مبتذل اسلوب کے “نظم” میں تین نسلوں کی شیرازہ بندی کر دیتے ہیں۔

غامدی صاحب کے اُستاد، امین احسن اصلاحی نے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض کے لیے “جنس زدہ بدمعاش” اور “بد خصلت گُنڈے” (یعنی غُنڈے) کے الفاظ استعمال کیے ہیں، استغفر اللہ! (دیکھیے تدبر قرآن، جلد ۵، صفحہ:۳۷۰)، ۔ اور عہدِ رسالت ﷺ کی مسلمان خواتین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان میں سے بعض “ڈیرے والیاں ہوتی تھیں جو پیشہ کراتی تھیں”، اور بعض مسلمان مرد “بدقماش” تھے (تدبر قرآن، جلد ۵، صفحہ:۳۷۲)۔ امین اصلاحی نے یہ مبتذل اور سوقیانہ گفتگو سورہ نور کی تفسیر میں کی ہے، جس میں واقعۂ افک (سنہ ۵ھ) کی جانب اشارہ ہے۔ یعنی نبی ﷺ کی سیادتِ طیبہ میں، پانچ چھ برس کی نبوی تربیت اور تزکیے کے بعد، مدینۃُ النبی ﷺ کے مسلمانوں کی یہ مکروہ تصویر کھینچی ہے۔ نعوذباللہ من ذلک۔ اس قسم کے لغو تبصروں کے بعد، امین اصلاحی کے اسلوب کے مزید شواہد کی ضرورت نہیں رہتی۔ اِس گستاخی و بدتمیزی پر مسلمانوں نے امین احسن اصلاحی کی علی الاطلاق مذمت کی ہے۔ اللہ امین اصلاحی کو معاف کرے، اور ہمیں اس طرح کے فتنے میں پڑنے سے محفوظ رکھے۔

دوسری جانب غامدی صاحب کے متبعین ہیں۔ ان میں سے ایک ریحان احمد یوسفی، عرف “ابویحییٰ” ہیں، جو اس فرقے کے نمایاں “مبلغ” ہیں۔ اپنی حالیہ تحریر میں، “ابویحییٰ” صاحب غیظ و غضب میں مسلمانوں کی مذمت پر اُترے تو جو منہ میں آیاکہہ گئے۔ اُنہیں “پست” قرار دیا، “مریضانہ سوچ” کا حامل ٹھہرایا، اور اس پر قناعت نہیں کی، بلکہ آگے بڑھ کر اُنہیں “سگِ آزاد” (سٹرے ڈاگ) قرار دے دیا، جو ” گلیوں میں آوارہ ” زہر بانٹتے پھرتے ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے طارق محمود ہاشمی صاحب کا مضمون: “ابویحییٰ کے داعیانہ فتوے”)۔ امین اصلاحی اور “ابویحییٰ” صاحبان کے اِن “مبتذل” الفاظ کے دفاع میں بھی اگر کوئی “نصوص” غامدی صاحب کے متبعین پیش کر سکیں، تو عنایت ہو گی۔

دُنیائے تحقیق کے باد نُما

آخر میں عرض ہے کہ ہفتہ دو ہفتہ قبل تک تو یہ حضرات، بے خبری کی وجہ سے، دین کے ایک بنیادی مسئلے میں، غامدی صاحب کے ایک متروک استدلال کا دفاع کر رہے تھے۔ اُس وقت یہ اِن کا اپنا موقف بھی تھا، اور اِس پروہی شرح صدر حاصل تھا جو کسی کو اپنے بنیادی دینی عقائد پر ہوتا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کا استدلال تبدیل ہو گیا ہے۔ کل تک انکارِ حدیث جس ستون پر کھڑا تھا، اب وہ منہدم ہو گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کل تک غامدی صاحب کے متبعین جس استدلال کی تندہی سے حمایت کر رہے تھے، اب غامدی صاحب کے نئے استدلال کی “دریافت” کے بعد بھی جاوید غامدی صاحب کے قدیم استدلال ہی پرقائم رہیں گے، یا باد نُما کی طرح اُسی مستعدی سے نو دریافت شُدہ استدلال کے دفاع میں جُت جائیں گے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ان میں سے اکثر انکارِ حدیث کے طے شدہ موقف پر قائم رہیں گے اور جن دلائل کو پہلے دین کی بنیاد مانتے تھے، اُنہیں فراموش کر کے نئے دلائل کو فوراً سے پیش تر اختیار کر لیں گے، اب اُن پر شرحِ صدر بھی ہو جائے گا، اور اُسی خشوع و خضوع سے اُن کا دفاع کرنے میں مشغول ہو جائیں گے۔

معلوم ہے کہ مدت سے یہی ہوتا آیا ہے۔ بالعموم متجددین اوربالخصوص منکرینِ حدیث کا موقف ایک ہی رہتا ہے، لیکن استدلال بدلتے رہے ہیں، کیونکہ موقف تو پہلے ہی طے کیا ہوا ہے!


حاشیہ:

(۱)۔ شاطبی کی یہ کوشش کہ فقہ اور اصول فقہ کو ایک نئی بنیاد پر استوار کیا جائے، بہرحال اپنا رنگ کہیں نہ کہیں دکھاتی رہی ہے، اور بعض اہل علم کے نزدیک ان کے ہاں عمل و عقیدے میں بعض معاملات میں تفرد، تشدد اور تنگ نظری کا ظہور ہوا ہے، گو ان کی فکر کی اصل خرابی اُس وقت ظاہر ہوئی ہے جب منکرین حدیث نے ان کے اصولوں کی بے محابہ توسیع کی۔ شاطبی پر جو علمی تنقیدیں ہوئیں ان میں جامعیت نہیں ہے اور بنیادی مسائل چھڑنے سے رہ گئے ہیں، تاہم دونوں جانب سے دیے گئے دلائل کے لیے دیکھیے: ناصر بن حمد الفہد، الاعلام بمخالفات الموافقات و الاعتصام (الریاض: مکتبۃ الرشد، ۱۹۹۹ء)، :محمد بن حسین الجیزانی، تھذیب الموافقات للشاطبی (قاہرہ: دار ابن الجوزی، سنہ ۱۴۳۰ھ)، صفحات: ۲۲ تا ۲۵؛، عبدالرحمن آدم علی، الامام الشاطبی: عقیدتہ و موقفہ من البدع و اھلھا (الریاض: مکتبۃ الرشد، ۱۹۹۸ء)، صفحات: ۸۷ تا ۳۰۴۔

……

بشکریہ دلیل ڈاٹ پی کے


 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Fill out this field
Fill out this field
Please enter a valid email address.
You need to agree with the terms to proceed

Menu