ملتے جلتے سوالات

سوال لکھیں

    مرحوم کی فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کا حکم

    سوال

    میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ،زندگی کے آخری دس سال نمازوں کا مکمل اہتمام رہا ،ممکن ہے کبھی ایک دو نمازیں چھوٹ جاتی ہوں ،اور اس سے قبل بلوغت کے بعد سے پینتالیس سال میں نمازوں کا کچھ نہ کچھ معمول تھا یعنی دن کی دو یا تین نمازیں ہوجاتی تھیں ،اب معلوم کرنا ہے: 

    1: ان تمام نمازوں کا حساب کیسے لگایا جائے ؟

    2: ان نمازوں کو ان کی طرف سے کیا کوئی اور ادا کرسکتا ہے؟

    3:ان کی نمازوں کا فدیہ ان کی چھوڑی ہوئی رقم سے ادا کیا جاسکتا ہے یا اپنی ذ اتی رقم سے ادا کرسکتے ہیں ؟اور اگر اتنی رقم نہ ہو تو نماز کے فدیہ کے علاوہ کوئی اور طریقہ اس وبال سے چھٹکارہ کا ہے تو وہ بھی بتادیں ؟

    4:پوری زندگی میں چھ روزے آنکھوں کے آپریشن کی وجہ سے چھوڑے تھے اس کی  خود قضاء نہیں کی  تھی ،کسی نے کہا تھا کہ بیوی شوہر کی بیماری میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کرسکتی ہے تو ان کی بیوی نے روزوں کی شوہر کی زندگی میں قضاء کرلی تھی ،کیا اس صورت میں قضا ہوگئی ؟ اگر نہیں ،تو کیا طریقہ ہے ؟  

    جواب

    واضح رہے کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں، تو اس پر ان نمازوں کے فدیہ ادا کرنے کی وصیت  لازم ہے ،اگر وہ اس کی وصیت کرلے تواس کے ورثاء پر اس کےمال کے ایک تہائی حصہ میں سے اس وصیت کو نافذ کرنا لازم ہے ،اگر ان نمازوں کے فدیہ کی رقم ایک تہائی سے زائد ہو تو زائد رقم تمام ورثاء کی اجازت سے اداکی جاسکتی ہے ،اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تو ورثاء پر ان نمازوں کا فدیہ اداکرنا ضروری نہیں ہے ،اگر تمام ورثاء یا کوئی ایک وارث اپنی خوشی سے وہ فدیہ ادا کردے تواس کا اس میت پر احسان وتبرع ہوگا۔ 

    1:اگر بلوغ کے وقت سے اب تک قضا شدہ نمازوں کی تعداد متعینہ طور پر معلوم ہو تواس کے مطابق فدیہ ادا کیا جائے گا ،اور اگرمتعینہ طور پر تعداد معلوم نہ ہو سکتی تو غالب گمان کےمطابق ان نمازوں کا حساب لگا کر ان سے کچھ زیادہ کا حساب رکھ کر   اس کے مطابق فدیہ ادا کیا جائے گا۔ 

    2:میت کی قضا شدہ نمازوں اور روزوں کو اور کوئی ان کی طرف سے ادا نہیں کرسکتا ،ہاں ان کا فدیہ ادا کرسکتا ہے ۔

    3:اگر میت نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہوتو ان کے ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے اس کو نافذ کرنا ورثاء پر لازم ہوتا ہے ، اور وہ رقم ایک تہائی سے زائد ہونے کی صور ت میں تمام ورثاء کی اجازت سے ادا کیا جاسکتا ہے ،اور اگر کوئی ایک وارث اپنی طرف سے وہ فدیہ ادا کرنا چاہے تو ادا کرسکتاہے ۔

    فتاوی شامی میں ہے :

    “(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)۔

    (قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.

    ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.

    واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه. والمتبادر من التقييد بالولي أنه لا يصح من مال الأجنبي. ونظيره ما قالوه فيما إذا أوصى بحجة الفرض فتبرع الوارث بالحج لا يجوز، وإن لم يوص فتبرع الوارث إما بالحج بنفسه أو بالإحجاج عنه رجلا يجزيه. وظاهره أنه لو تبرع غير الوارث لايجزيه، نعم وقع في شرح نور الإيضاح للشرنبلالي التعبير بالوصي أو الأجنبي فتأمل، وتمام ذلك في آخر رسالتنا المسماة شفاء العليل في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل.”

    (كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت، 72/2، ط: ايچ ايم سعيد ) 

    فتاوی شامی میں ہے: 

    “(وإن) لم يوص  و (تبرع وليه به جاز) إن شاء الله ويكون الثواب للولي اختيار.

    (قوله إن شاء الله) قبل المشيئة لا ترجع للجواز بل للقبول كسائر العبادات وليس كذلك، فقد جزم محمد – رحمه الله – في فدية الشيخ الكبير وعلق بالمشيئة فيمن ألحق به كمن أفطر بعذر أو غيره حتى صار فانيا، وكذا من مات وعليه قضاء رمضان وقد أفطر بعذر إلا أنه فرط في القضاء وإنما علق لأن النص لم يرد بهذا كما قاله الأتقاني، وكذا علق في فدية الصلاة لذلك، قال في الفتح والصلاة كالصوم باستحسان المشايخ.”

    (كتاب الصوم، فصل: في العوارض المبيحة لعدم الصوم،425/2   ط: ايچ ايم سعيد )

    فتاوی شامی میں ہے: 

    “(العبادة المالية) كزكاة وكفارة (تقبل النيابة) عن المكلف (مطلقاً) عند القدرة والعجز ولو النائب ذمياً؛ لأن العبرة لنية الموكل ولو عند دفع الوكيل (والبدنية) كصلاة وصوم (لا) تقبلها (مطلقاً، والمركبة منهما) كحج الفرض (تقبل النيابة عند العجز فقط)”.

    ( كتاب الحج، باب الحج عن الغير، 597/2   ط: ايچ ايم سعيد )

    فقط والله اعلم