ملتے جلتے سوالات

سوال لکھیں

    نماز جمعہ چھوڑنا

    سوال

    ہم نے بچپن سے سن رکھا ہے کہ جو شخص تین جمعہ نہ پڑھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے شخص کے نکاح میں کوئی لڑکی ہو اس نے کئی سالوں سے جمعہ یا کوئی بھی نماز ادا نہ کی وہ تو وہ مسلمان رہا ہے یا نہیں ؟اس کی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی یا نہیں ؟اگر ایسا شخص انتقال کر جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ تجہیز و تکفین کا کیا حکم ہے ؟وہ شخص نماز کا انکار نہیں کرتا البتہ نماز ادا بھی نہیں کرتا۔

    جواب

     جمعہ کی نماز فرض ہے اور بلاعذر جمعہ کی نماز ترک کرنے والا سخت گناہ گار ہے، احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے :

    ’’ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر کی لکڑی (یعنی اس کی سیڑھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نمازِ جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں،  ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے‘‘۔

    نیز ایک دوسری روایت میں ہے :

    “حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگائے دے گا۔”

    (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

    (مشکاۃ المصابیح: باب الجمعہ۔ص :418 ط: قدیمی)

    ان احادیث سے جمعہ کی نماز کی اہمیت کا علم ہوتاہے، نیز ترکِ جمعہ پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ بھی ان روایات میں واضح طور پر مذکور ہیں ۔البتہ سستی ،کاہلی اور غفلت کی وجہ سے اگر کسی سے نمازِ جمعہ چھوٹ جائے یا بار بار چھوٹتی رہے تو اس سےآدمی اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی نکاح ٹوٹتاہے, نیز اس کی تجہیزو تکفین مسلمانوں ہی کی طرح ہوگی البتہ وہ سخت گنہگار ہے۔

    بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

    “أما الأول فالجمعة فرض لا يسع تركها ويكفر جاحدها والدليل على فرضية الجمعة الكتاب والسنة وإجماع الأمة.”

    (1/ 256 ط: بیروت)

    فقط واللہ اعلم