ملتے جلتے سوالات

سوال لکھیں

    کسٹمر کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر کے کسٹمر کو نقد دینے پر کمیشن لینا

    سوال

    ایک سوال ہے ایزی پیسہ کے حوالے سے:

    1: کسٹمر کے ایزی پیسہ اکاونٹ سے raast idکے ذریعہ رقم اپنے بینک اکاونٹ میں منتقل کر کے کسٹمر کو نقد رقم دے کر اس سے 1000 روپے پر 20 روپے منافع لینا کیسا ہے؟ اس طریقے سے کسٹمر پر کمپنی کی طرف سے کوئی چارجز نہیں ہوتے اور نہ دکاندار کو بینک کی طرف سے یا کمپنی کی طرف سے کوئی کمیشن ملتا ہے۔ اور عام طور پر اگر کسٹمر ایزی پیسہ سے یہ رقم نکالتا ہے تو کمپنی کسٹمر سے 1000 روپے پر 20 روپے چارج کرتی ہے اور کمپنی دکاندار کو بھی کمیشن دیتی ہے۔

    2: کسٹمر کے لیے بینک سے ایزی پیسہ اکاونٹ میں رقم منتقل کرنے کی صورت میں کسٹمر سے 1000 روپے پر 10 روپے منافع لینا کیسا ہے؟ اس صورت میں بھی دکاندار کو بینک یا کمپنی کی طرف سے کوئی کمیشن نہیں ملتا۔ البتہ 25000 سے زیادہ رقم منتقل کرنے پر بینک دکاندار سے ٪0.1 یا ٪0.2 چارج کرتا ہے

    جواب

    1) صورتِ مسئولہ میں دکاندار  کے گاہک کسٹمر کو اس کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر کے نقد رقم دینے میں کوئی ایسی خدمت نہیں پائی جاتی جس کے عوض شرعی طور پر دکاندار کے لیے کمیشن لینے کا جواز بنتا ہو یا دکاندار اجرت کا مستحق ہوتا ہو، بلکہ درحقیقت دکاندار نے صرف گاہک کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا ہے اور اپنے پاس سے نقد رقم اسے ادا کر دی ہے، اس صورت میں دکاندار کے لیے 1000 روپے پر 20 روپے کمیشن لینا جائز نہیں ہے، ہاں اگر یہ صورت ہو کہ دکاندار گاہک کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرے پھر خود یا اپنے نمائندے کے ذریعہ بینک سے وہ رقم وصول کر کے گاہک کو ادا کرے تو اس صورت میں اس خدمت کے عوض دکاندار کے لیے کمیشن لینا جائز ہوگا۔

    2)دکاندار کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ سے گاہک کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے عوض کمیشن لینا بھی جائز نہیں ہے۔

    فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

    “وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال”.

    (كتاب البيوع، الباب التاسع فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه، 3/ 117، ط: رشيدية)

    الدر المختار میں ہے:

    “كتاب الإجارة…(هي) لغة…وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين”

    وفي الرد:

    “(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء”.

    (كتاب الإجارة، 6/ 4، ط: سعيد)

    فقط والله أعلم