سوال

آگ سے بال کٹوانا شرعا کیسا ہے ؟(Fire Hair Cutting)

جواب

واضح رہے کہ بال انسان کے جسم کا    ایک جزء ہے جو کہ قابل احترام ہے ،لہذا بالوں کو آگ کے ذریعہ کاٹنا  شرعاً جائز نہیں ؛اس لیے کہ ایک تو اس میں انسان کااحترام کے بجائے توہین کا پہلو ہے   کہ انسان کے ایک جزء کو جلایا جائے  اور دوسرا یہ کہ  اس میں اس بات کا  خطرہ رہتا ہے کہ آگ کے ذریعہ بال کاٹتے وقت     انسان کا جسم جل جائے ۔

موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے :

“واتفق الفقهاء على عدم جواز الانتفاع بشعر الآدمي بيعا واستعمالا؛ لأن الآدمي مكرم لقوله سبحانه وتعالى: {ولقد كرمنا بني آدم} فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا.”

(ج:26،ص:102،دارالصفوۃ)

تفسیر مظہری میں ہے :

“أَنْفِقُوا أموالكم فِي سَبِيلِ اللَّهِ فى الجهاد وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ،قيل: الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل: فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر،‌إِلَى ‌التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل: كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل: التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه”.

(ج:1،ص:215،مکتبۃ الرشدیۃ)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
داڑھی، مونچھ، بالوں، ناخن کے احکام
2025-10-12 14:21:53

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field