’’ارحم‘‘ کے بجائے ’’ارہم‘‘ سے کسی کو پکارنا


سوال

 ہم بچوں کا نام’’ ارحم ‘‘رکھتے ہیں لیکن ہم ان کو ’’ارھم‘‘ نام  لے کر بلاتے ہیں تو یہ کیسا   ہے؟ اور اس سے کیا مطلب بھی تبدیل ہو جاتا ہے کہ نہیں اس کی وضاحت فرمادیں!

جواب

 نام  پکارتے ہوئے ہوئےصحیح تلفظ کے  کوشش کرنی چاہیے، قصدا نام کے تلفظ کو بگاڑ کر بلانا صحیح نہیں ہے ؛  کیوں کہ بسا اوقات مخرج اور الفاظ اتنے بدل جاتے ہیں کہ معنی ہی بدل جاتے ہیں،   تاہم’’ ارحم‘‘ کو ’’ارہم‘‘ کی تلفظ کے ساتھ پکارنے میں حرج نہیں، کیونکہ ’’حا‘‘ اور’’ ھا‘‘ قریب المخرج ہے، اور  اس کی صحیح ادائیگی ہر  شخص کے  لیے مشکل ہے، نیز  ’’ارہم‘‘ کا معنی بھی کوئی برا نہیں، ’’ارہم‘‘ کا معنی ہے:زیادہ سرسبز وشاداب۔

تاج العروس میں ہے:

“وتقول: نزلنا بفلان فكنا في أرهم جانبيه: أي: أخصبهما، نقله الجوهري”.

(تاج العروس: مادة ر، ه، م (32/ 297)، ط. دار الهداية)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-27 08:32:06

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field