شرعی سوال و جواب
انجینئر کا کونٹریکٹر سے کمیشن لینےکا حکم
سوال
گورنمنٹ کے جو کام ہوتے ہیں وہ .ایم .ایل. اے.کے واسطے سےملتے ہیں اور ایم ایل اے انجینئر کو بتاتا ہے، پھر انجینئر کنٹریکٹرکو، تودرمیان میں جو انجینئر ہے جب یہ کسی کنٹریکٹر کو کام دلاتا ہے تو وہ کنٹریکٹر اس انجنیر کو 5 فیصد رقم دیتا ہے جو وہ ایم ایل اےسے لیتا ہے.تو کیا اس انجینئر کا یہ رقم لینا درست ہے؟
جواب
واضح رہےکہ کنٹریکٹرکو کام دلانا انجینئر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے،جس کی تنخواہ حکومت اسےاداکرتی ہے،اوراپنی ذمہ داری پوری کرنےپرکسی دوسرےسےمعاوضہ لیناشرعاًرشوت کےزمرےمیں آتاہےجوکہ ناجائز اورحرام ہے،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں انجنینئرکاکنٹریکٹرکوکام دلانےپراس سے5فیصد کی رقم بطور کمیشن لینا،جب کہ حکومت کی طرف سےانجینئرکو کنٹریکٹرکوکام دلانےاوردیگرذمہ داریاں پوری کرنےکی اجرت ملتی ہے، ناحق کسی کا مال کھانےاوررشوت کےزمرےمیں آتاہےجوکہ ناجائز اورحرام ہے،حدیث شریف میں رشوت لینےاوردینےکی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
“وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ .” [البقرة: 188]
ترجمہ:”اور آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق مت کھاؤ”۔(بیان القرآن)
حدیث شریف میں ہے:
“عن عبد الله بن عمرو قال: “لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي.”
(سنن أبي داؤد،باب في كراهية الرشوة، 326/3، ط:المطبعة الأنصارية)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سےروایت ہے،انہوں نےفرمایاکہ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےرشوت دینےوالےاوررشوت لینےوالےپرلعنت فرمائی ہے”۔
ایک دوسری حدیث میں ہے:
“عن عبد الله بن عمرو قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: “الراشي والمرتشي في النار”.
(مسند البزاز، باب الألف، 295/2، ط:دارالحرمين القاهرة)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ”رشوت دینےوالا اور رشوت لینےوالا جہنم میں ہیں”۔
فتاوی شامی میں ہے:
“الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد.”
(كتاب القضاء، 362/5، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
معاملات
اجارہ اور کرایہ کے احکام
2025-10-17 22:03:12
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
