شرعی سوال و جواب

اوجھڑی کھانے کا حکم

سوال

کیا اوجھڑی کھانا جائز ہے؟

جواب

حلال جانور کی اوجھڑی کھانا جائز ہے، البتہ خوب پاک وصاف کرکے کھائیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية ‌والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد في كراهة ذلك.”

(‌‌‌‌كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج:6، ص:527، ط:دار الفكر – بيروت)

امداد الفتاوی میں ہے:

” اوجھڑی کی حلّت اس لیے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں ، فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار ”درمختار” کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے: والغدة، والخصیة والمثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذکر۔ اھ ”

(ج:4، ص:105،  ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

” فقہاء نے جانور کی سات چیزوں  کو حرام قراردیا ہے ان سات چیزوں  میں  اوجھڑی شامل نہیں  ہے ، لہذا اسے حلال کہا جائے گا، جو اسے حرام قرار دیتے ہیں  وہ دلیل پیش کریں”

(ج:10، ص:81،  ط: دارلاشاعت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


ذبح و شکار
حلال جانور کے حرام اعضاء
2025-10-08 05:51:09

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔