شرعی سوال و جواب
اپنے ذاتی پیسوں سے والد کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا
اپنے ذاتی پیسوں سے والد کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا
سوال
ہم گھر میں تین بھائی رہتے ہیں اور سب اپنی تنخواہیں والد صاحب کو دے دیتے ہیں، میں بھی اپنی پوری تنخواہ والد صاحب کو دیتا ہوں، البتہ مجھے تنخواہ کے علاوہ خرچہ وغیرہ کے لیے کچھ پیسے ملتے ہیں، جس میں سے میں کچھ پیسے غرباء پر صدقہ کے طور پرخرچ کرتا ہوں، جس کے بارے میں والد صاحب اور بھائیوں کو پتہ نہیں ہوتا، کیا میرا یہ صدقہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ اپنے پیسوں سے غرباء پر جو پیسے صدقہ کے طور پرخرچ کرتے ہیں تو آپ کا یہ صدقہ کرنا جائز ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
“حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه.”
(كتاب الدعوٰی، فصل في بيان حکم الملك، 263،264/6، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
زکات
صدقاتِ واجبہ اور نافلہ
2025-10-17 17:10:03
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
