شرعی سوال و جواب

اگرعورت جنابت کی حالت میں سوجائے اورجب اٹھے تووہ حیض کی حالت میں ہو،ابووہ غسل کرے گی کہ نہیں؟

اگرعورت جنابت کی حالت میں سوجائے اورجب اٹھے تووہ حیض کی حالت میں ہو،ابووہ غسل کرے گی کہ نہیں؟


سوال

اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرلے اوربیوی بغیر غسل کئے سوجائے ،جب  صبح اٹھے تووہ حالت حیض میں ہو،اب کیا وہ جنابت کا غسل کرے گی یا نہیں؟

جواب

جنابت کی حالت میں کسی عورت کو ماہواری آجائے تو اس  کے لیے فوری غسل کرناضروری  نہیں رہتا اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک وہ عورت  حیض کی حالت میں ہے تو پاکی کا تصور ہی نہیں ہوسکتا، لہذا  حیض کے ایام  میں عورت پرجنابت کے بعد غسل کرنا لازم نہیں ہے،ماہواری ختم ہونے کے بعد غسل کرناہوگا، البتہ اگر کوئی عورت ماہواری کے ایام میں ویسے ہی غسل کرنا چاہے تو شرعی اعتبار سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن یہ غسل غسلِ طہارت نہیں کہلائے گا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

” (و) عند (انقطاع حيض ونفاس) هذا وما قبله الحكم إلى الشرط: أي يجب عنده لا به، بل بوجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل كما مر.”

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج: 1، ص:165، ط: سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند  میں ہے:

“سوال: ایک شخص اپنی بیوی سے ہم بستر ہوا، صبح کو اس کی بیوی حائضہ ہوگئی تو اس کی بیوی پر غسلِ  جنابت فرض ہے یا نہیں؟

جواب:غسلِ  جنابت اس پر فرض نہیں رہا، حیض سے پاک ہو کر غسل کرے۔”

(فتاوی دار العلوم دیوبند ، کتاب الطہارات ، ج:1 ، ص: 135، ط: دار الاشاعت)

فقط والله اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
موجبات غسل
2025-10-08 06:55:37

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔