شرعی سوال و جواب
اگر ورثاء میں صرف بیٹیاں ہوں تو ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
اگر ورثاء میں صرف بیٹیاں ہوں تو ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
سوال
اگر ایک آدمی کی صرف بیٹیاں ہی ہوں تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے، اور اس کے ورثاء میں صرف بیٹیاں ہوں ، بیوہ، بیٹے، والد ، دادا، والدہ، بھائی، بہن ، بھتیجے، چچا، چچازاد بھائی یعنی عصبات میں سے کوئی بھی نہ ہو، تو مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر قرض ہو ، تو اس كو ادا كرنے كے بعد، اگر کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اُسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد ،باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو مرحوم کی بیٹیوں کے درمیان برابر تقسیم کر دیا جائے گا۔
نوٹ : اگر بیٹیوں کے علاوہ مذکورہ ورثاء میں سے کوئی وارث ہو تو ان کی تفصیل لکھ کر دوبارہ دار الافتاء سے رجوع کرسکتے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فرائض
ترکہ کی تقسیم کا طریقہ
2025-09-26 01:47:14
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
