شرعی سوال و جواب

اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھے بیمار ہونے کی وجہ سے تو کیا وہ تراویح کی جماعت کروا سکتا ہے؟

اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھے بیمار ہونے کی وجہ سے تو کیا وہ تراویح کی جماعت کروا سکتا ہے؟


سوال

اگرکوئی شخص روزہ نہ رکھے بیمار ہونے کی وجہ سے تو کیا وہ تراویح کی جماعت کروا سکتا ہے؟

جواب

تراویح پڑھانے والا اگر کسی عذر شرعی ( مثلاً سفر یا مرض وغیرہ ) کی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو  اس کے تراویح پڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہ رکھتا ہو تو شریعت کی نظر میں فاسق ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کی نماز کی امامت کا اہل نہیں ہے، لہٰذا ایسا شخص جب تک توبہ کرکے روزہ رکھنا شروع نہ کرلے ایسے شخص کو امام بناکر اس کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(‌التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا.”

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج: 2، ص:   43، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
تراویح میں امامت
2025-10-17 15:05:37

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔