شرعی سوال و جواب
ایسے جانور کی قربانی جس کی زبان بیچ سےچیری ہوئی ہو
ایسے جانور کی قربانی جس کی زبان بیچ سےچیری ہوئی ہو
سوال
ایسے جانور کی قربانی جس کی زبان بیچ سےچیری ہوئی ہو، مسئلے کا جواب صریح جزئیہ کے ساتھ ہو۔
جواب
واضح رہے کہ جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو یا چیری ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ چارہ گھاس وغیرہ نہ کھاسکے تو اس جانور کی قربانی درست نہیں اور اگر گھاس وغیرہ کھا سکتا ہے تو جائز ہے۔
فتوی عالمگیری میں ہے:
“وفي اليتيمة: كتبت إلى أبي الحسن علي المرغيناني، ولو كانت الشاة مقطوعة اللسان هل تجوز التضحية بها؟ . فقال: نعم إن كان لا يخل بالاعتلاف، وإن كان يخل به لا تجوز التضحية بها، كذا في التتارخانية.”
(كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ج:5،ص:298،ط:دار الفكر بيروت)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
قربانی
قربانی کے جانور میں عیب
2025-09-30 14:11:47
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
