سوال

میرےبھائی پر قرض ہےاورمیری تنخواہ ١٦٠٠٠روپےہےاورقرض دار آئے روز مجھے تنگ کرتےہیں تو قرض ختم کرنےکےلیےمیں این جی آر کمپنی میں اپنی تنخواہ سے۵٠٠٠ روپے فکس یابغیرفکس منافع پررکھ کر  اسےاپنی بھائی کاقرض اداکردوتوکیاشریعت کی روسےاس کمپنی میں  پیسے منافع پررکھ کر قرض اداکرناجائزہے؟

جواب

مذکورہ کمپنی (این، جی، آر)  کے معاملات اور معاہدے کی تفصیل ارسال کر کے اس کے بعد ہی  جواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔

نیز قرض چوں کہ سائل کے بھائی کے ذمہ ہے اس کی ادائیگی بھی اسی کے ذمہ لازم ہے، تاہم اگر سائل بھائی کا قرض ادا کرنا چاہتا ہے تو جتنی استطاعت ہے اپنی آمدنی کے حساب سے آسانی کے ساتھ  دے سکتا ہے تو دے دے اس پر اجر ملے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

“وأن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع.”

(كتاب الشركة، الباب الأوّل في بيان أنواع الشركة، ج:2، ص:302، ط: مكتبه رشيديه) 

فقط والله اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
بیمہ زندگی / انشورنس / تکافل
2025-09-27 13:58:18

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field