شرعی سوال و جواب

بلا شہوت احتلام کی صورت میں غسل کا حکم

سوال

اگر بنا کسی شہوت کے احتلام ہو تو کیا غسل فرض ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں احتلام نیند کی حالت میں ہوتا ہے، خواب کی بعض باتیں بسااوقات یاد رہتی اور بعض نہیں رہتی، لہذا جب خواب میں احتلام ہو  اور منی خارج ہوتو لذت یاد رہے یا نہ رہےبہر صورت غسل واجب ہو گا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

“وفرض الغسل عند خروج مني من العضو …… منفصل عن مقرہ ھو صلب الرجل وترائب المرأة… بشھوة أي: لذة … وإن لم یخرج من رأس الذکر بھا وشرطہ أبو یوسف، وبقولہ یفتی في ضیف خاف ریبة واستحیٰ کما فی المستصفی وفي القہستاني، والتاترخانیة معزیا للنوازل: وبقول أبي یوسف نأخذ؛ لأنہ أیسر علی المسلمین، قلت ولا سیما في الشتاء والسفر”.

(قوله: بشهوة) متعلق بقوله: منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل عندنا خلافًا للشافعي كما في الدرر.(قوله: كمحتلم) فإنه لا لذة له يقينا لفقد إدراكه ط فتأمل. وقال الرحمتي: أي إذا رأى البلل ولم يدرك اللذة؛ لأنه يمكن أنه أدركها ثم ذهل عنها فجعلت اللذة حاصلة حكمً”.

( کتاب الطہارة، موجبات الغسل، ج: ۱، صفحہ: ۱۵۹ و۱۶۰، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
موجبات غسل
2025-10-08 08:02:53

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔