شرعی سوال و جواب

بوفے سسٹم کے تحت کھانا کھلانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ آج کل اکثر جگہوں پر “بوفے سسٹم”۔ کے تحت کھانا کھایا جاتا ہے ، اور اسے باقاعدہ قابل فخر سمجھا جاتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

دعوت میں بوفہ سسٹم  کے تحت کھانا کھلانا تو آج کل معمول ہے ،اس میں کوئی قابل فخر بات معلوم نہیں ہوتی، اس لیے اس  سسٹم کے تحت کھانا کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اس میں  کھانا لینے کی جلدی میں غیر مہذب طریقہ اختیار کرنے، دوسروں کو تکلیف دینے، ضرورت سے زائد کھانے لے کر ضائع کرنے وغیرہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“واتخاذ ألوان الأطعمة ووضع الخبز على المائدة أكثر من الحاجة سرف….ومن الإسراف أن يأكل وسط الخبز ويدع حواشيه أو يأكل ما انتفخ منه ويترك الباقي؛ لأن فيه نوع تجبر….”

(کتاب الکراھیۃ،ج5،ص336،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
کھانے کے آداب وغیرہ
2025-10-12 16:30:51

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔