سوال

کیا بچے کا”نوح” نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

“نوح” کا ایک معنی “سکون تسکین بخشنے والا” ،دوسرا معنی “گریہ اور آہ وزاری کرنے والا”کے آتے ہیں،حضرت نوح علیہ السلام مشہور و معروف پیغمبر گزرے ہیں، لہذا کسی بچے کا نام “نوح” رکھنا نا صرف جائز ہے،بلکہ باعثِ برکت و فضیلت بھی ہے۔

تفسیر الدرالمنثور میں ہے:

“وكان اسم نوح السكن وإنما سمي نوح السكن لأن الناس بعد آدم سكنوا إليه فهو أبوهم وإنما ‌سمي ‌نوحا لأنه ناح على قومه ألف سنة إلا خمسين عاما يدعوهم إلى الله فإذا كفروا بكى وناح عليهم.”

(سورة الاعراف، ج:3، ص:480،ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-10-14 18:02:00

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field