شرعی سوال و جواب

بکرے کے دانت ٹوٹ جائیں، تو اس کی قربانی کا حکم

بکرے کے دانت ٹوٹ جائیں، تو اس کی قربانی کا حکم


سوال

بکرے کے دانت ٹوٹ چکے ہیں سامنے والے نہیں سائیڈ والے، لیکن عمر ایک سال سے زیادہ ہے، تو کیا ایسے بکرے کی قربانی درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ  بکرا اگر ایک سال سے زائد عمر کا  ہونا تسلی بخش ہے،  چارہ کھا سکتا ہے، تو  اس کی قربانی جائز  ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

“وأما ‌الهتماء ‌وهي ‌التي ‌لا ‌أسنان ‌لها ‌فإن كانت ترعى وتعتلف جازت وإلا فلا، وذكر في المنتقى عن أبي حنيفة – رحمه الله – أنه إن كان لا يمنعها عن الاعتلاف تجزيه وإن كان يمنعها عن الاعتلاف إلا أن يصب في جوفها صبا لم تجزه، وقال أبو يوسف في قول لا تجزي سواء اعتلفت أو لم تعتلف، وفي قول إن ذهب أكثر أسنانها لا تجزي كما قال في الأذن والألية والذنب، وفي قول إن بقي من أسنانها قدر ما تعتلف تجزي وإلا فلا.”

(كتاب التضحية، ج: 5، ص: 75، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


قربانی
قربانی کے جانور میں عیب
2025-09-25 23:48:18

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔