سوال

اگر تین بھائیوں میں سے ایک حالتِ صحت میں کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری تمام جائیداد میرے فلاں بھتیجے کو دی جائے؛ حال آں کہ  اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، اور وہ وصیت کرنے کے تین سال بعد فوت ہوجائے تو کیا یہ وصیت صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بھائی  کے لیے(جب کہ اس کے ورثاء موجودہوں) اپنے تمام مال کی وصیت اپنے بھتیجے  کے لیے کرنا شرعاً  جائز نہیں تھا،  یہ وصیت اُس کے ایک تہائی مال میں نافذ ہوگی؛لہذا مذکورہ وصیت کی وجہ سے ایک تہائی مال مرحوم کی وصیت کے مطابق اُس کے بھتیجے کو ملے گا ، جب کہ ایک تہائی سے زیادہ کے حق میں یہ وصیت مرحوم کے دیگر  ورثاءکی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر مرحوم کے تمام عاقل ،بالغ ورثاء  اپنی خوشی سے اس وصیت کی اجازت دے دیتے ہیں تو ایک تہائی سے زیادہ کے حق میں بھی وصیت نافذ ہوجائے گی، اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو پھر ایک تہائی سے زیادہ میں یہ وصیت باطل ہوجائے گی اور ایک تہائی مال مرحوم کی وصیت کے مطابق اُس کےبھتیجے کو ملے گا اور باقی دو تہائی مرحوم کے ورثاء میں اُن کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.”

(کتاب الوصایا،الباب الالو فی تفسیر الوصیۃ،ج:6،ص:90،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


وصیت
جائز اور ناجائز وصیتیں
2025-10-14 18:21:14

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field