سوال

کیا بینک میں پیسے جمع کروانا سود ہے ؟

جواب

کسی بھی بینک میں ضرورت کے وقت کرنٹ اکاؤنٹ کھلواکر اس میں رقم رکھوانا جائز ہے۔ البتہ سیونگ  اکاؤنٹ یا کسی اور نام سے نفع کے حصول کے لیے کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ کھلواکر رقم رکھ کر اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سود ہے ، اور سود کا لینا حرام ہے ۔ 

اگر سوال سے مقصود اس کے علاوہ ہوتو وضاحت کے بعد دوبارہ جواب طلب کرلیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

“عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال هم سواء”.

(صحیح مسلم، کتاب المساقات، ج:3، ص:1219، ط: دار إحیاء التراث العربی)

ترجمہ:” حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرمﷺ نے سود کھانے والے، اور کھلانے والے اور (سودکاحساب) لکھنے والے اور سود پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے،اور فرمایا: کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔”

الأشباه والنظائرمیں ہے:

’’الأولى: الضرورات تبيح المحظورات … الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها.‘‘

(ص:73، ط:دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


معاملات
سود کی تعریف اور احکام
2025-09-27 15:53:28

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field