شرعی سوال و جواب
بیوہ، ایک بیٹا اور والدین میں میراث کی تقسیم
سوال
ایک بندہ وفات ہو گیا ہے اور اس نے ترکہ میں 9لاکھ روپے چھوڑے ہیں، اب اس 9لاکھ روپے کو اس کی ماں ،باپ اور بیوی اور ایک بیٹے کے درمیان کس طرح تقسیم کریں گے ؟
جواب
مرحوم کے ورثاء میں والد، والدہ ،بیوی اور ایک بیٹا ہے تو اس صورت میں میراث کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ کہ مرحوم کی جائیداد میں سے اولاً ان کی تجہیز و تکفین اور قرضہ جات ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُس کو ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے، بیٹے کو 13 حصے، والد کو 4 حصے اور والدہ کو 4 حصے ملیں گے۔
میت/ 24
| بیوہ | والد | والدہ | بیٹا |
| 3 | 4 | 4 | 13 |
یعنی اگر کل ترکہ نو لاکھ روپے ہیں تو بیوہ کو 112500 روپے ،بیٹے کو 487500 روپےاور والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 150،000 ،روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
معاملات
ورثاء اور ان کے حصص
2025-10-08 11:46:10
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
