شرعی سوال و جواب

بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں، جن میں سے ایک بیٹے کی وفات اس شخص کی زندگی میں ہوگئی تھی اور دو بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، ان سب کے درمیان وراثت شرعی طور پر کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کا انتقال ہوگیا ہے تو اس مرحوم کے  ترکہ کی تقسیم  کا طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلےمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات  نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا کوئی قرض ہو تو  اسے کل ترکہ سے  ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومنے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ  ترکہ کے  ایک تہائی  میں نافذ کرنے کے بعد،   باقی کل  منقولہ وغیر منقولہ ترکہ  کو 80حصوں میں تقسیم کر  کے 10حصے  مرحوم کے بیوہ کو،14 حصے   کرکے  مرحوم  کے ہر ایک زندہ بیٹے  کو اور   7 کرکے    اس کی   ہر ایک بیٹی کو  کوملیں گے۔ 

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8/ 80

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 7
10 14 14 14 14 7 7

یعنی  100 میں فیصد کے اعتبار سے12.50فیصد  مرحوم کی بیوہ کو، 17.50 فیصد  مرحوم کے ہر ایک بیٹے  کو ،  8.75 فیصد اس کی  ہر ایک بیٹی کو   کوملے گا۔

نیز جس بیٹے کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا ، اس کا والد کے ترکہ میں حق وحصہ نہیں ہوگا۔فقط واللہ أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فرائض
ترکہ کی تقسیم کا طریقہ
2025-11-25 22:35:01

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔