سوال

 میرا ایک دوست   انگلینڈ میں پیداہوا، اور وہیں  جوان ہوا ، پاکستانی لڑکی سے شادی کی،بیوی نے اپنے میاں کو  بغیرشرعی عذر کےمباشرت کرنے سے منع کیا،شوہرنے غصےمیں بیوی سے زبردستی مباشرت کر لی،  کیا شوہرگناہ گار ہوگا؟

جواب

 شوہر کو بیوی سے ہمبستری کا حق  ہے۔اگر شوہر کو تقاضا  ہو اور بیوی مطالبہ پورا نہ کرے اور بیوی کو شرعی یا طبی عذر نہ ہو  تو شوہر ناراض ہونے میں حق بجانب ہے، اس میں وہ گناہ گار نہیں ہوگا، اور بیوی نہ چاہتے ہوئے یا مشقت اٹھاتے ہوئے شوہر کی خواہش کی تکمیل کرے گی تو اس کے لیے اجر بھی ہے۔بہرحال اگر بیوی کو شرعی یا طبی عذر نہیں ہے اور شوہر زبردستی بیوی سے ہمبستری کرلیتا ہے تو وہ گناہ گار نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”

(كتاب بدء الخلق،باب  إذا قال أحدكم  آمين  والملائكة في السماء  فوافقت إحداهما الأخرى  غفر له ما تقدم من ذنبه،ج:3، ص:182،ط: دار ابن كثير)

سنن الترمذی میں ہے:

“وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”

(باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، ج: 2، ص: 453، ط: دار الغرب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حقوق و آدابِ معاشرت
میاں ، بیوی کے حقوق
2025-09-30 17:01:47

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field