شرعی سوال و جواب
بیوی نے کہا سمجھو میں آپ کی زندگی میں ہوں ہی نہیں، اس سے نکاح کا حکم
بیوی نے کہا سمجھو میں آپ کی زندگی میں ہوں ہی نہیں، اس سے نکاح کا حکم
سوال
میری بیوی نے مجھے لکھا کہ سمجھو میں آپ کی زندگی میں ہوں ہی نہیں ، میں نے جواب میں لکھا : میری طرف سے بھی آپ جو مرضی کرو ، مطلب اس کا یہ کہ جو مرضی کام کرو ، مثلاً اکیلے بازار جانا، اکیلے شہر جانا، سلائی مشین کا کام کرنا، پارلر بنانا، وغیرہ، سوال یہ ہے کہ کیا یہ بولنے سے نکاح ٹوٹ گیا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، زوجین کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
” ولو قال: داده إنگار أو كرده إنگار (أي ظني أنه أعطي أو ظني أنه فعل) لايقع وإن نوى”.
(كتاب الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج:1، ص:380، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
عدمِ وقوعِ طلاق
2025-09-27 04:48:46
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
