سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کو کسی مرد کے نام سے پکار سکتی ہے؟

جواب

مرد کے نام سے پکارنے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر شوہر کو اس کے نام سے پکارنا مراد ہے تو  بیوی کے لیے اپنے شوہر کو اس کے نام سے پکارنا مکروہ ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

“يكره ‌أن ‌يدعو ‌الرجل ‌أباه والمرأة زوجها باسمه كذا في السراجية.”

(الفتاوى الهندية، كتاب كتاب الكراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، 365/5، رشيدية)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

“سوال: 1: میاں بیوی کو اس کا نام لے کر بلا سکتا ہے؟ اور بیوی اپنے میاں کو نام سے پکار سکتی ہے؟ …

الجواب: مرد اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکار سکتا ہے، لیکن عورت اپنے خاوند کو اس کے نام سے نہ پکارے کہ یہ بے ادبی اور گستاخی کی بنا پر مکروہ ہے۔يكره أن يدعو الرجل أباه و المرأة زوجها باسمه(كذا في السراجية)۔۔۔”

(کتاب الحظر و الاباحۃ، متفرقات حظر و اباحت، ج:10، ص:233، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حقوق و آدابِ معاشرت
میاں ، بیوی کے حقوق
2025-10-17 17:36:27

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field