شرعی سوال و جواب

تقسیم سے پہلے ترکہ سے آنے والا کرایے میں تمام ورثاء شریک ہوں گے

تقسیم سے پہلے ترکہ سے آنے والا کرایے میں تمام ورثاء شریک ہوں گے


سوال

 ہمارےوالدصاحب کا انتقال ہوگیاہے،والدہ حیات ہے،والد صاحب کی جائیداد ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے ،اس سے جو کرایہ آتاہے وہ ہم چھ بھائیوں ،چار بہنوں ،اور والدہ میں تقسیم ہوتا ہے ،ہم چھ بھائیوں میں سے تین بھائی نوکری بھی کرتے ہیں ،اور باقی تین بھائی کوئی کام نہیں کرتے ہیں ،اب آیا والد صاحب کی جائیداد کا جو کرایہ آتاہے اس میں کام والے تین بھائیوں کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد کی جائیداد کا جو کرایہ آتاہے ،وہ سب سائل کےوالد مرحوم کےترکہ کے منافع ہیں ، چوں کہ اس منافع کا اصل ذریعہ  والد  کا ترکہ ہی ہے، جس میں تمام ورثاء اپنے اپنے حصے کے بقدر شریک ہیں، لہذا اس  مذکورہ جائیداد کے کرایہ میں بھی تمام ورثاء اپنے حصوں کے بقدر شریک ہیں،کام کرنے والے بھائیوں کا بھی اس میں حصہ ہے۔

درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے  :

” تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم.”

(الكتاب العاشر الشركات ،الباب الأول في بيان شركة الملك ،الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،المادة 1073،ج:3،ص:26،ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فرائض
ترکہ کے مال میں اضافہ
2025-09-24 22:54:34

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔