سوال
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ہم چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی غیر شادی شدہ ہے جس کے بارے میں والدہ نے یہ وصیت کی تھی ایک فلیٹ اور موٹر سائیکل جب بکے گی تو اس کو اس کی قیمت ملے گی، وہ ہم تمام ورثاء نے رضامندی کے ساتھ اس کو دے دی، اور ایک پلاٹ پر کچھ خرچہ تھا وہ ہم سب بہن بھائیوں نے ادا کیا پھر رضامندی کے ساتھ ہم نے برابر تقسیم کیا، اب ایک مکان ہے جس کو تقسیم کرنا ہے اس میں اس بہن جس کو ہم نے فلیٹ بیچ کردیا اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ حالاں کہ بہن نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی کہ “میں بقیہ ترکہ میں سے کچھ نہیں لوں گی” اب اس مکان کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟ والد کے ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے، دو بیٹیاں ہیں پھر والدہ کا انتقال ہوا ورثاء میں والدہ (یعنی نانی) چار بیٹے، دو بیٹیاں ہیں، پھر نانی کا انتقال ہوا ورثاء میں چار بیٹے، چار بیٹیاں ہیں، پھر ہماری والدہ کی ایک بیٹی (شادی شدہ بہن) کا انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، پھر ان کے شوہر کا انتقال ہوا ورثاء میں یہی دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر تمام ورثاء عاقل وبالغ تھے اور انہوں نے والدہ کی وصیت کے مطابق مذکورہ بہن کو ایک فلیٹ اور موٹر سائیکل دے دی اور ایک پلاٹ پر خرچہ کرکے آپس میں تقسیم کرلیا تو یہ درست ہے، تاہم اس کی وجہ سے کسی کا حصہ والدین کی وراثت سے ختم نہیں ہوا۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك۔۔۔۔۔۔ ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله – عليه الصلاة والسلام – «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث.”
(كتاب الوصايا، ج:6، ص:649، 655، 656، ط:سعيد)
والد مرحوم کے ترکہ (بشمل مذکورہ مکان) کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں، اس کے بعد اگر ان پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کیا جائے، پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی سے اسے نافذ کیا جائے، اس کے بعد باقی جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کے 2880 حصے بناکر مرحوم کے ہر بیٹے 564 حصے، بیٹی کو 282 حصے، ساس کے ہر بیٹے کو 10 حصے، ہر بیٹی کو 5 حصے، مرحومہ بیٹی کے ہر بیٹے کو 94 حصے اور اس کی ہر بیٹی کو 47 حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے
ميت: 8/ 80/ 480/ 2880 والد
| بيوه | بيٹا | بيٹا | بيٹا | بيٹا | بيٹي | بيٹي |
| 1 | 7 | |||||
| 10 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 |
| فوت شد | 84 | 84 | 84 | 84 | 42 | 42 |
| 504 | 504 | 504 | 504 | 252 | 252 | |
ميت 6/ 12 وفق 6 والدہ مف: 10 وفق 5
| والدہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 5 | |||||
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
| 10 | 10 | 10 | 10 | 10 | 5 | 5 |
| فوت شد | 60 | 60 | 60 | 60 | 30 | 30 |
میت 12 وفق 6 نانی مف:10 وفق 5
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
| 10 | 10 | 10 | 10 | 5 | 5 | 5 | 5 |
میت 6 وفق: 1 بیٹی، شوہر مف:282 وفق:47
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 |
| 94 | 94 | 47 | 47 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے ہر بیٹے کو 19.583 فیصد، اس کی زندہ بیٹی کو 9.791 فیصد، نانی کے ہر بیٹے (سائل کے ہر ماموں) کو 0.347 فیصد، ہر بیٹی کو 0.173 فیصد، مرحومہ بیٹی کے ہر بیٹے کو 3.263 فیصد اور اس کی ہر بیٹی کو 1.631 فیصد ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
