شرعی سوال و جواب
تنہا عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوگا
سوال
اگر نکاح کے وقت مجلس نکاح میں صرف خواتین گواہ موجود ہوں ، ان میں سے کوئی بھی مرد نہ ہوتو کیا نکاح منعقد ہوجائے گا یا نہیں ؟ اگر نکاح منعقد نہیں ہوگا تو کیا طلاق کی ضرورت ہوگی یا نہیں ؟
جواب
نکاح کے منعقد ہونے کے لیے تنہا عورتوں کی گواہی معتبر نہیں ہے ، ہاں اگر ایک مرد ہو اور ساتھ دو عورتیں ہوں تو پھر گواہ بن سکتے ہیں۔
لہذا اگر کسی مجلس نکاح میں صرف عورتیں ہی ہوں اور وہ گواہ بنیں تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، بلکہ لڑکا اور لڑکی بدستور ایک دوسرے کے لیے اجنبی رہیں گے ، ان کا باہمی بات چیت کرنایا ملنا حرام ہوگا۔ نیز جب نکاح منعقد نہیں ہوا تو ایسی مجلس کے بعد طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہوگی ۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
“(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معًا) على الأصح.”
(كتاب النكاح، ج: 3، ص: 21، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولا ينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل هكذا في فتاوى قاضي خان.”
(كتاب النكاح، الباب الأول في تفسيره شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، ج:1، ص:267، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نکاح
نکاح کے گواہ
2025-10-08 10:43:35
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
