شرعی سوال و جواب
جعلی فیس بک آئی ڈی بنانا اور اپنے کو جھوٹ بول کر کسی اور ملک کا دکھانے کا حکم
جعلی فیس بک آئی ڈی بنانا اور اپنے کو جھوٹ بول کر کسی اور ملک کا دکھانے کا حکم
سوال
ہم ایک آن لائن کاروبار کرتے ہیں، جس میں ہم جعلی فیس بک آئی ڈی بناتے ہیں اور جعلی نام استعمال کرتے ہیں اور اپنے کاروبار میں اشتہار دیتے ہیں ، صاحبِ معاملہ کو معلوم بھی ہوتا ہے کہ یہ پاکستانی ہے ،لیکن ہم جھوٹ بولتے ہیں، توایسا کرنا حلال ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آن لائن کاروبار کے لیے فیس بک کا پلیٹ فارم استعمال کرنا درست نہیں، اسی طرح جعلی فیس بک آئی ڈی اور جعلی نام ،اور اپنے آپ کو کسی اور ملک کا ثابت کر کے اشتہار دینا اور اور کاروبار کرنا شرعاً جعل سازی ، دھوکا دہی اور جھوٹ ہونے کی بنا پر حرام ہے ، لہذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
مجمع الزوائد میں ہے:
“وعن عبد اللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من غشنا فلیس منا والمکر والخداع في النّار.”
(کتاب البیوع، باب الغش:ج:4،ص:139، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حقوق و آدابِ معاشرت
جھوٹ، چغل خوری اور بہتان
2025-09-27 04:29:20
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
