سوال

بعض کتب میں جنات صحابہ کے نام ملتے ہیں، مثلاً: خاضر، حسا، مسا، لحقم، وغیرہ، کیا یہ نام انسانوں کے رکھے جاسکتے ہیں؟

جواب

جنات کے مذکورہ ناموں کا رکھنا مسلمانوں میں رائج نہیں ہے،نیز یہ کہ ان الفاظ کے معنی بھی عام طور پر معلوم نہیں ہے،اس لیے دیگر بامعنیٰ اچھے نام رکھے جائیں، بالخصوص انبیاء کرام علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے۔

سنن أبي داود (ج:4، ص:287، ط:المكتبة العصرية، صيدا – بيروت):

“عن أبي الدرداء رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم.”

ترجمہ:” تم لوگ قیامت کے دن اپنے اور اپنے والد کے نام سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔”

الفتاوى الهندية (ج:5، ص:362، ط:دار الفكر):

“وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل، كذا في المحيط.”

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-30 14:23:05

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field