جھوٹا اقرار کرنے کی نیت سے ’’یہ میری بیوی نہیں ہے‘‘ کہنے کا حکم


سوال

نعیم نے طلاق کی نیت کے بغیر طلاق کا جھوٹا اقرارکرنے کی نیت سے کہا : ’’طوبی میری بیوی نہیں ہے وہ اس گھر سے جا سکتی ہے‘‘ نعیم کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا نہ طلاق کی بات چل رہی تھی نہ ہی اس کو غصہ تھا،  اس نے کہیں پڑھا تھا کہ طلاق کے جھوٹے اقرار سے طلاق نہیں ہوتی۔

جواب

واضح رہے کہ  بیوی کے بارے میں کہنا کہ ’’یہ میری بیوی نہیں ہے‘‘یہ جملہ ،طلاق کے ان الفاظ میں سے ہے کہ جس سے طلاق کی نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص كے بيان كے مطابق اس کی نیت اس جملہ سے کہ:’’ یہ میری بیوی نہیں ہے، وہ اس گھر سے جاسکتی ہے‘‘ طلاق کی نیت نہیں تھی؛لہٰذا اس جملہ سے مذکورہ شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے۔

نیز واضح رہے کہ طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے بھی قضاءًطلاق واقع ہوجاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“لست لك بزوج أو لست لي بامرأة أو قالت له لست لي بزوج فقال صدقت طلاق إن نواه خلافا لهما.

(قوله: طلاق إن نواه) لأن الجملة تصلح لإنشاء الطلاق كما تصلح لإنكاره فيتعين الأول بالنية وقيد. بالنية لأنه لا يقع بدونها اتفاقا لكونه من الكنايات، وأشار إلى أنه لا يقوم مقامها دلالة الحال لأن ذلك فيما يصلح جوابا فقط وهو ألفاظ ليس هذا منها.وأشار بقوله طلاق إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي، كذا في البحر من باب الكنايات.”

(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق،3 /282، 283، ط:سعید)

وفيه أيضاً:

“ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً.”

(کتاب الطلاق،3 / 236، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طلاق
طلاقِ کنایہ
2025-09-30 13:08:21

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field