شرعی سوال و جواب
حاجی کے لیے دم شکر اور قربانی میں تقدیم و تاخیر کا حکم
حاجی کے لیے دم شکر اور قربانی میں تقدیم و تاخیر کا حکم
سوال
حاجی پر دم شکر لازم ہوتا ہے اور اس پر قربانی بھی واجب ہے اور واجب قربانی حاجی اپنے ملک میں کروا رہا ہے تو کیا واجبی قربانی کا دم شکر کے بعد ہونا ضروری ہے ؟ یعنی یہ ترتیب ضروری ہے کہ پہلے دم شکر ہو پھر واجبی قربانی ہو۔۔۔؟؟
جواب
واضح رہے کہ’ دم ِ شکر ‘ جو کہ حج ِ قران یا حج ِ تمتع کرنے والے پر واجب ہوتا ہے،جبکہ قربانی مقیم اور صاحبِ نصاب پر واجب ہوتی ہے، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں دونوں میں سے کسی کو بھی مقدم کیا جا سکتا ہے۔
فتاوى ہندیہ میں ہے:
“ويجب الدم على المتمتع شكرا لما أنعم الله تعالى عليه بتيسير الجمع بين العبادتين إلى قوله وحكم القارن كحكم المتمتع في وجوب الهدي.”
(کتاب المناسک، الباب السابع في القران والتمتع، ج:1، ص:239، ط:رشیدیہ)
ہدایہ میں ہے:
“الأضحیة واجبة علی کل حرّ مسلم مقیم موسر في یوم الأضحی.”
(کتاب الأضحیة،ج:4، ص:443، ط:دار احياء التراث العربي)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حج
دم شکر
2025-10-12 16:35:01
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
