شرعی سوال و جواب

حالتِ حیض میں بیوی کے ساتھ ہمبستری ہونے کا کفارہ

حالتِ حیض میں بیوی کے ساتھ ہمبستری ہونے کا کفارہ


سوال

طویل مدت کے بعد ملنے پر مغلوب ہوکر حالت حیض میں جماع کر لیا،کفارہ کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حالتِ حیض میں جماع کرنا ناجائز اور حرام ہے،اگر زوجین کی رضامندی سے اس گناہ کا ارتکاب ہوا ہے تو دونوں گناہ گار ہوئے،دونوں استغفارکریں، اور حالتِ حیض میں جماع ہوجانے کی صورت میں مستحب یہ ہےکہ ایک دینار (4.374  گرام سونے کا سکہ) یا آدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کریں،مارکیٹ میں جو سونے کی قیمت ہو اس کے حساب سے دینار کی قیمت معلوم کی جاسکتی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“(قوله ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعاً «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار»، ثم قيل: إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل: بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه: «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دماً أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار.”

 (‌‌كتاب الطهارة،‌‌باب الحيض،ج:1،ص:298،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
جماع اور اس کے متعلقات وغیرہ
2025-09-30 17:57:11

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔