سوال

 حمنہ ایک صحابیہ کا نام ہے، لیکن سوال میرا یہ ہے کہ شاید حمنہ (رضی اللہ عنھا) نے حضرت امی عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنھا) پر تہمت لگائی تھی ،اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول بھی کرلی، پر دل میں ایک خدشہ بھی ہے، تو کیا میں اپنی بیٹی کا نام تبدیل کروں  یا رہنے دو ں ؟میرے اس خدشہ کا جواب دیں۔

جواب

حضرت حمنہ رضی اللہ عنھا کو جب اللہ تعالیٰ نے،  اللہ کے رسولﷺنے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے معاف کردیا تھا ،تو آپ کو بھی اپنے ذہن سے یہ خدشہ نکال دینا چاہیے،اور  حمنہ صرف ان ہی  صحابیہ کا نام نہیں ہے،  بلکہ ان کے علاوہ ایک اور صحابیہ کانام بھی حمنہ ہے،لہذا آپ اپنی بیٹی کانام اس خدشے  کی وجہ سے تبدیل نہ کریں  ۔

اسد الغابہ میں ہے:

“حمنة بنت أبي سفيان بن حرب بن أمية.”

(أسد الغابة في معرفة الصحابة ،ج:7، ص:72،ط:دار الكتب العلمية)

وفيه ايضاً:

“حمنة بنت جحش”وهي أخت زينب بنت جحش أم المؤمنين زوج النبي صلى الله عليه وسلم حمنة زوج مصعب بن عمير، فقتل عنها يوم أحد، فتزوجها طلحة بن عبيد الله، فولدت له محمدا وعمران ابني طلحة.وأمها أميمة بنت عبد المطلب، عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔وكانت من المهاجرات وشهدت أحدا فكانت تسقي العطشى، وتحمل الجرحى وتداويهم روت عن النبي صلى الله عليه وسلم روى عنها ابنها عمران بن طلحة.”

(أسد الغابة في معرفة الصحابة ،ج:7، ص:72،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حقوق و آدابِ معاشرت
اولاد کے حقوق
2025-10-08 06:51:46

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field