حیض کے کپڑے پر استعمال ہونے کے بعد اگر مرد کی نگاہ پڑے تو عورت کو گناہ ملے گا؟


سوال

خاص ایام میں جو پیڈ (pad) عورتیں استعمال کرتی ہے کیا  ان کے استعمال کے بعد ضروری ہے کہ ان کو دھویا جائے؟ یا یہی کافی ہے کہ ان کو اچھی طرح سے ڈھک کر کچرے میں پھینک دیا جائے؟ کسی نے ہم کو بتایا کہ اگر کسی مرد کی نظر ان پر پڑی تو عورت کو گناہ ملے گا، کیا اس میں کوئی حقیقت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عورتوں کے لیے خاص ایام میں پیڈ وغیرہ استعمال کرنے کے بعد دھونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی چیزوں کو اگر زمین کے اندر دفن کرنا ممکن ہو تو دفن کردیاجائے، اور اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اس طرح کی چیزوں کو چھپاکر ایسی جگہوں پر پھینکا جائے جہاں عام لوگوں کی نگاہ نہ پڑے، البتہ ایسی جگہ پھینکنا جو گندگی یا بیماری یا بے حیائی پھیلانے کا سبب ہو،ناپسندیدہ اور  مکروہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

“فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان. يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم كذا في الفتاوى العتابية.”

(كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج: 5، ص: 358، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


طہارت
حیض کی تعریف اور احکام
2025-10-08 14:15:35

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field