شرعی سوال و جواب
دانت پر کور لگانے کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم
دانت پر کور لگانے کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم
سوال
دانت کو کور لگانے سے غسل یا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟
جواب
دانتوں پر کور وغیرہ اس طرح چڑھایا گیا ہو کہ وہ بالکل فکس ہوگیا ہوتو وہ دانت کے حکم میں ہوجائے گا اور اس حالت میں کلی کرنے سے غسل صحیح ہوجائے گااور وضو میں کلی کرنے کی سنت بھی ادا ہوجائے گی۔
اور اگر کور کو دانت سے اتارکر دوبارہ چڑھایا جاسکتا ہو یعنی فکس نہ ہو، تو اس صورت میں واجب غسل کے لیے کور کو نکال کر کلی کرنا لازم ہوگا اور وضو میں بھی سنت پر عمل کرنے کے لیے کور اتارنا ضروری ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح”.
(فرض الغسل، کتاب الطہارۃ، ج:1، ص:154، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
“الأصل وجوب الغسل إلا أنه سقط للحرج”.
(فرض الغسل، كتاب الطہارۃ، ج:1، ص:153، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
“(لا) يجب (غسل ما فيه حرج كعين) وإن اكتحل بكحل نجس (وثقب انضم و) لا (داخل قلفة)”.
(فرض الغسل، كتاب الطہارۃ، ج:1، ص:152، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
“ولو انكسر ظفره فجعل عليه دواء أو علكا فإن كان يضره نزعه مسح عليه وإن ضره المسح تركه”.
(الباب الثانی فی نواقض المسح، کتاب الطہارۃ، ج:1، ص:35، ط:رشیدیه)
کفایت المفتی میں ہے:
“جب اصلی و خلقی دانت پر سونے کا پترہ چڑھادیاجائے تو یہ سونے کا خول بوجہ شدت انصال کے کالجز ء ہی ہوجائے گا اور اس کے نیچے اصلی دانت کا غسل واجب نہ ہوگا۔”
(کتاب الطہارۃ، ج:2، ص:312،ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طہارت
فرائض غسل
2025-09-30 13:39:49
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
