شرعی سوال و جواب
دعائے قنوت بھول جانے کی صورت میں نماز کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں تیسری رکعت میں دعاۓقنوت پڑھنا بھول جائے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب
وترکی نمازمیں دعائے قنوت کاپڑھناواجب ہے،اورواجب کے ترک کرنے پرسجدۂ سہوادا کرنے سے نمازہوجائے گی،لہذا اگرکوئی شخص وترکی تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اورسورت ملانے کے بعدرکوع میں چلاگیاتوآخری قعدہ میں تشہدپڑھ کرسجدۂ سہوکرنے سے وتر کی نمازدرست ہوجائے گی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
“والقنوت واجب على الصحيح. كذا في الجوهرة النيرة إذا فرغ من القراءة في الركعة الثالثة كبر ورفع يديه حذاء أذنيه، ويقنت قبل الركوع في جميع السنة”.
(کتاب الصلاۃ،الباب الثامن فی الوتر ،ج:1،ص:111،دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نماز
دعاء قنوت اور اس کا حکم
2025-10-17 15:23:19
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
