دوران عدت بیوی سے رجوع کی نیت سے یہ کہنا کہ “تم ابھی بھی میری بیوی ہو”
سوال
اگر شوہر ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران بیوی سے کہہ دے کہ: “تم ابھی بھی میری بیوی ہو اور یہ بچہ میرا ہے” اور اس سے اس کی نیت دل میں رجوع کی تھی تو کیا رجوع ہو جائے گا؟
وضاحت:شوہر نے اپنی بیوی کو ایک طلاق ان الفاظ ” میں تم کو طلاق دیتا ہوں، اب تم گھر جاسکتی ہو” کے ذریعہ دی تھی ۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی مذكوره الفاظ ” میں تم کو طلاق دیتا ہوں اب تم گھر جاسکتی ہو” کے ساتھ دینے کے بعد دوران عدت اپنی بیوی کو رجوع کی نیت سے یہ کہناکہ :“تم ابھی بھی میری بیوی ہو اور یہ بچہ میرا ہے”اس سے رجوع ہوگیا ، البتہ اس کے بعدآئندہ کے لیے شوہر کو مزید دوطلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
محیط برہانی میں ہے :
“قال لمطلقته طلاقاً رجعيّاً: أنت عندي كما كنت، أو قال: أنت امرأتي، فإن نوى الرجعة يصير مراجعاً.”
(كتاب الطلاق ، الفصل الثاني والعشرون : في مسائل الرجعة،3/ 425،ط:دارالكتب العلمية )
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طلاق
ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع
2025-10-17 16:43:17
