سوال

ذروہ یا ذروا نام رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا یہ  صحابیہ کا نام ہے؟

جواب

واضح رہے کہ” ذروۃ” ذال کے زیر اور پیش کےساتھ کسی بھی چیز کی بلندی اور چوٹی کے معنی میں ہے اور “ذال ” کے زبر کے ساتھ مال کے معنی میں ہے،یہ نام رکھنا جائز ہے ،البتہ اس کے بجائے انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم کے ناموں پر نام رکھنا باعثِ خیر وبرکت ہے۔ 

تلاش کے باوجود کسی صحابی یا صحابیہ کانام”ذروۃ”ہونا ہمیں نہیں مل سکا ۔

“النهاية في غريب الحديث والأثر”میں ہے:

“(س) وفيه «أول الثلاثة يدخلون النار منهم ذو ذروة لا يعطي حق الله من ماله» أي ذو ثروه، وهي الجدة والمال، وهو من باب الاعتقاب لاشتراكهما في المخرج.وفي حديث أبي موسى «أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بإبل غر الذرى» أي بيض الأسنمة سمانها. والذرى: جمع ذروة وهي أعلى سنام البعير. وذروة كل شيء أعلاه.(هـ) ومنه الحديث «على ذروة كل بعير شيطان».”

(حرف الذال،باب الذال مع الراء،ذرا، 159/2،ط:المكتبة العلمية)

فقط والله أعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
ناموں کے معانی اور احکام
2025-09-30 17:26:23

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field