شرعی سوال و جواب

رشوت دے کر پانی کا کنکنشن کروانا

سوال

 ڈیفینس کراچی  کے گھروں میں پانی نہیں آتا، مگر کنٹونمنٹ والے پانی کا ٹیکس لے لیتے ہیں۔ ان کے آفس کے ایک ورکر نے کہا ہے کہ میں آپ کو پانی کی بڑی لائن سے کنکشن دے دیتا ہوں اور پانی آنے کی ضمانت بھی ،مگر پیسے لوں گا۔ یاد رہے کہ اس ٹائپ کے کنکشن  کی کنٹونمنٹ سے اجازت نہیں ہے۔ تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟اور  کروا سکتے  ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حکومت کے جائز قوانین پر عمل کرنا واجب ہے، لہٰذا جب کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے  ایسے کنکشن لینے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ رشوت کے ذریعے غیر قانونی کنکشن دے گا، تو  اس طرح کنکشن لگوانا قانون کی خلاف ورزی ہے، اور پیسے  دے کر غیر قانونی کام کروانا رشوت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے ۔

القرآن الکریم:

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ ‌وَأُوْلِي ‌ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ … إلخ (النساء، الایة: 59)

سنن أبي داود میں ہے: 

“عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي و المرتشي.”

(رقم الحديث: 3580، 433/5، ط: دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


حظر و اباحت
رشوت / بھتہ
2025-10-12 14:20:16

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔