سوال
ایک عورت نے اپنی نند کے پہلے تین بچوں کو دودھ پلایا ہے، لیکن چوتھی لڑکی کو دودھ نہیں پلایا، کیا یہ چوتھی لڑکی کی شادی اپنے بیٹوں سے کروا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کا اپنے بیٹوں کا نکاح اپنی نند کی چوتھی بچی کے ساتھ( جس کو اس نے دودھ نہیں پلایا ) کرانا شرعاً جائز ہے ،جبکہ اور کوئی مانع بھی نہ ہو۔
فتاوی شامی میں ہے :
“(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.”
(باب الرضاع،ج:3،ص:217،سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
رضاعت
رضاعت کا ثبوت، حکم و شرائط
2025-10-08 07:47:44
