شرعی سوال و جواب

رمضان کے ہر روزے کی نیت کرنا ضروری ہے پورے مہینے کے لیے ایک نیت کافی نہیں ہے

رمضان کے ہر روزے کی نیت کرنا ضروری ہے پورے مہینے کے لیے ایک نیت کافی نہیں ہے


سوال

نیت روزے کا ایک رکن ہے،کیا پورے رمضان کے لیے ایک ہی نیت کافی ہو گی یا ہر روزے کی الگ نیت کرنا مستحب ہوگا؟

جواب

رمضان المبارک کے ہر روزے کی نیت الگ الگ کرنا ضروری ہے،پورے رمضان کے روزوں کے لیے صرف ایک  ہی نیت کافی نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(ويحتاج صوم كل يوم من رمضان إلى نية) ولو صحيحا مقيما تمييزا للعبادة عن العادة.”

(كتاب الصوم،ج:2،ص:379،ط:سعيد)

“فتاوی ہندیہ” میں ہے:

“ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان۔۔۔ووقت النية كل يوم بعد غروب الشمس، ولا يجوز قبله كذا في محيط السرخسي ولو نوى قبل أن تغيب الشمس أن يكون صائما غدا ثم نام أو أغمي عليه أو غفل حتى زالت الشمس من الغد لم يجز.”

(کتاب الصوم،ج:1،ص:195،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
روزہ – حقیقت و مصالح
2025-10-17 16:19:55

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔