شرعی سوال و جواب
روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانے کا حکم
سوال
دیور بلاعذر روزہ نہیں رکھتاہے، پوچھنا ہے کہ اس کے لیے کھانا بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ماہِ رمضان میں عاقل بالغ مسلمان مرد و زن پر شرعی عذر کے بغیر روزہ ترک کرنا حرام ہے، اور اگر کسی شخص نے شرعی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھا ہو تو اس کے لیے سارے دن کچھ کھائے پیے بغیر رہنا لازم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے روزہ چھوڑنے والے کے لیے دن بھر کھانا پینا جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لیے دیور کو دن میں کھانا پینا فراہم کرنا معاونت علی الاثم ( گناہ کرنے میں تعاون فراہم کرنا) کے قبیل میں سے ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے:
“﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾.” [المائدة: 2]
ترجمہ:” اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔” (از بیان القرآن)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
روزہ
روزہ – حقیقت و مصالح
2025-09-27 07:56:31
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
