شرعی سوال و جواب

روزے کی حالت میں بلغم آنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

روزے کی حالت میں بلغم آنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟


سوال

اگر روزے کی حالت میں کسی شخص کو بلغم آجائے، تو کیا روزہ فاسد ہوجائے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں  اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں  بلغم آجائے، تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، تاہم اگر بلغم کی مقدار زیادہ اور اس بلغم کو قصدا نگل لیا جائے، تو امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد ہوجائے گا، اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد نہیں ہوگا، اس لیے احتیاظ ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

“(قوله: فينبغي الاحتياط) ؛ لأن مراعاة الخلاف مندوبة وهذه الفائدة نبه عليها ابن الشحنة ومفاده أنه لو ابتلع البلغم بعدما تخلص بالتنحنح من حلقه إلى فمه لا يفطر عندنا قال في الشرنبلالية ولم أره ولعله كالمخاط قال: ثم وجدتها في التتارخانية سئل إبراهيم عمن ابتلع بلغما قال إن كان أقل من ملء فيه لا ينقض إجماعا وإن كان ملء فيه ينقض صومه عند أبي يوسف وعند أبي حنيفة لاينقض. اهـ.”

(كتاب الصوم، باب كا يفسد الصوم و ما لا يفسده، 400/2، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


روزہ
روزہ نہ توڑنے والی چیزیں
2025-09-26 00:39:03

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔