سوال

زوال کا صحیح وقت کون سا ہے؟

جواب

سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان  کسی بھی دن  جتنا بھی فاصلہ ہوتا ہے، اس کے عین نصف کو وقتِ  نصف النہار حقیقی یا وقت استواء  کہتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہےجب کہ سورج عین سمت الراس (انتہائی  بلندی) پر پہنچ جاتا ہے۔اسی کو زوال کے(مکروہ وقت)  سے بھی تعبیر کردیتے ہیں(ورنہ حقیقتاً سورج کا زوال اس کے بعد شروع ہوتا ہے جو کہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے)۔چونکہ  سورج کی پوری ٹکیہ کا حجم 32 دقیقہ ہے اور اسے  سمت الراس(ہمارے سر کی جانب آ کر وہاں ) سے گزرنے میں 2 منٹ اور 8 سیکنڈ لگتے ہیں، اس لئے اصل مکروہ وقت  تویہی ہے۔ لیکن احتیاطاً وقت استواء سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ بعد تک نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“ولايخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل”.

(كتاب الصلاة، 1/371، ط: سعيد)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :

’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت  لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔

(ج۳ / ص۲۰۷، ط: لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نماز
نمازوں کے اوقات
2025-09-30 12:55:39

Ask Fatwa

Fill out this field
Please enter a valid email address.
Fill out this field
Fill out this field