شرعی سوال و جواب
سحری کھا لینے کے بعد روزے کی دعا پڑھ کر کچھ کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
سحری کھا لینے کے بعد روزے کی دعا پڑھ کر کچھ کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
سوال
اگر سحری کھانے کے بعد روزہ رکھنے کی دعا پڑھ لی، پھر دوبارہ کچھ کھا لیا ، تو کیا دعا پڑھنے کے بعد کچھ کھا یا جا سکتا ہے؟ اس سے روزے پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟جب کہ سحری کا وقت بھی باقی ہو۔
جواب
واضح رہے کہ سحری کا وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک ہے، لہذا جب تک صبح صادق ہونے کا یقین نہ ہو اس وقت تک کسی بھی وقت سحری کھائی جاسکتی ہے ، روزے کی نيت کر لینے کے بعد سحری کھانا منع نہیں ۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ.”
ترجمہ:”کھاؤ (بھی) اور پیو(بھی) اس وقت تک کہ سفید خط کہ( وہ نور ہے) صبح( صادق) کا (جب کہ وہ بالکل شروع ہی شروع میں طلوع ہوتی ہے) متمیز ہوجاوے سیاہ خط سے( کہ عبارت ہے تاریکی کی اس حدِ فاصل سے کہ جو خطِ نور صبح سے ملا ہوا محسوس ہوتا ہے ،مراد متمیز ہونے سے یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہوجاۓ)”
(بیان القرآن،سورۃ البقرۃ، الآیۃ:131/1،187،ط: رحمانیۃ)
البحر الرائق میں ہے:
“لأن السحور هو الأكل بعد نصف الليل إلى طلوع الفجر.”
(كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب اللبس والكلام،547/4،ط:دارالکتب العلمیة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
“التسحر مستحب، ووقته آخر الليل قال الفقيه أبو الليث، وهو السدس الأخير هكذا في السراج الوهاج.”
(کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،220/1،ط:دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
روزہ
سحر و افطار کے احکام
2025-10-17 15:12:04
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
