شرعی سوال و جواب
سرمایہ کاری میں لگے ہوئے پیسوں پر زکاۃ کا حکم؟
سرمایہ کاری میں لگے ہوئے پیسوں پر زکاۃ کا حکم؟
سوال
میرے آٹھ لاکھ انویسٹ ہوئے ہیں، جس سے میرے گھر کا ماہانہ خرچہ چلتا ہے، اس میں سے کبھی کچھ اماؤنٹ بچ بھی جاتی ہے، کیا میرے جو پیسے انویسنٹ ہوئے ہیں آٹھ لاکھ ، اس پر زکوۃ بنتی ہے؟ اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، نا گولڈ ہے اور نہ کیش؟
جواب
صورت مسئولہ میں آپ نے جو آٹھ لاکھ روپے انویسٹ کیے ہیں اس پر زکوۃ واجب ہے۔
“وأما مال المضاربة فعلى رب المال زكاة رأس المال وحصته من الربح، وعلى المضارب زكاة حصته من الربح إذا وصلت يده إليه، إن كان نصابا أو كان له من المال ما يتم به النصاب عندنا”.
(المبسوط للسرخسي: كتاب الزكاة، باب العشر (2/ 204)، ط.دار المعرفة، بيروت، تاريخ النشر: 1414هـ =1993م)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
زکات
مالِ تجارت
2025-10-12 16:41:10
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
