شرعی سوال و جواب
سر منڈوانے، شیو کروانے اور ناخن کاٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا
سر منڈوانے، شیو کروانے اور ناخن کاٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا
سوال
کیا حلق کروانے شیو کرانے، ناخن کاٹنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں وضو کی حالت میں سرمنڈوانے، شیو کرنے اور ناخن کاٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر حلق اور شیو کرنے سے خون نکل آئے اور اپنی جگہ سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
ملحوظ رہے کہ داڑھی منڈوانا یا کٹواکر ایک مشت سے کم کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
“(ولا يعاد الوضوء) بل ولا بل المحل (بحلق رأسه ولحيته كما لا يعاد) الغسل للمحل ولا الوضوء (بحلق شاربه وحاجبه وقلم ظفره) وكشط جلده (وكذا لو كان على أعضاء وضوئه قرحة) كالدملة (وعليها جلدة رقيقة فتوضأ وأمر الماء عليها ثم نزعها لا يلزمه إعادة غسل على ما تحتها) وإن تألم بالنزع”.
(كتاب الطهارة، أركان الوضوء، ج: ۱، ص: ۱۰۱، ط: ایچ، ایم، سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“وإن أمر الماء على شعر الذقن ثم حلقه لا يجب عليه غسل الذقن وكذا لو حلق الحاجب والشارب أو مسح رأسه ثم حلق أو قلم أظافيره لا تلزمه الإعادة كذا في فتاوى قاضي خان”.
(كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، ج: 1، ص: 4، ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
عمومی
طہارت
2025-09-30 14:18:41
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
