شرعی سوال و جواب

سوتیلی والدہ سے نکاح کا حکم

سوال

ایک شخص کے والد نے دوسری شادی کی، پھر کچھ عرصہ بعد وہ فوت ہوگیا ،اب وہ شخص اپنے والد کی بیوہ یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟

جواب

قرآن مجید کی صریح نص کے مطابق  بیٹے کے  لیے اپنے والد کی منکوحہ ،  خواہ سگی  ماں  ہو خواہ سوتیلی ، کے ساتھ  نکاح کرنا  حرام  ہے ۔

قرآن مجید میں ہے :

وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا       (سورة النساء22)

ترجمہ:اور تم ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ (دادا،ابا،نانا) نے نکاح کیا ہو ،مگر جو بات گزر گئی گزر گئی ،بے شک یہ (عقلا ً بھی) بے حیائی ہے اور نہایت نفرت کی بات ہے اور ( شرعاً بھی ) بہت برا طریقہ ہے ۔                                                   ( بیان القرآن)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

“(والرابعة) نساء الآباء والأجداد من جهة الأب أو الأم وإن علوا فهؤلاء محرمات على التأبيد نكاحا ووطئا، كذا في الحاوي القدسي.”

(کتاب النکاح ،الباب الثالث فی بیان المحرمات،ج:1،ص:274،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

 


دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


نکاح
سسرالی محرمات
2025-09-27 15:30:07

یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔