شرعی سوال و جواب
شرعی معذور کا وضو دخول وقت سے ٹوٹے گا یا خروج وقت سے؟
شرعی معذور کا وضو دخول وقت سے ٹوٹے گا یا خروج وقت سے؟
سوال
شرعی معذور کےفجر کا وضوکس ٹائم تک ہے طلوع آفتاب تک یا ظہر تک؟
جواب
واضح رہے کہ شرعی معذور کے فجر کا وضو طلوع آفتاب تک رہتا ہے،اگر عذر کے علاوہ کوئی اور ناقضِ وضو نہ پایا جائے، اور فجر کا وقت نکلنے کے ساتھ ہی معذورِ شرعی کا وضو ٹوٹ جاتاہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
“ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح.”
(كتاب الطهارة، فصل في تطهير الأنجاس،ج:1، ص:41، ط: دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
“ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في – {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.
وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.”
(باب الحيض، مطلب في احكام المعذور، ج:1، ص: 306، ط:سعيد)
فقط وألله أعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
طہارت
معذورین کے احکام
2025-10-17 15:03:57
یہ اصل سوال اور اس کا متعلقہ جواب ہے۔ جواب میں درج ماخذ، حوالہ اور شرائط ملحوظ رکھیں۔ کسی نئے یا مختلف معاملے کے لیے دارالافتاء سے رجوع کریں۔
